نسرین خالہ نے بتایا کہ مہر نے دو بار آ کر امی سے سلائی سیکھی تھی۔ پھر امی بیمار ہو گئیں۔ مہر اب بچوں کے کپڑوں میں بٹن ٹانکنے کا کام کرتی تھی۔ اسے مشین چلانا پوری طرح نہیں آتا تھا اور بازار میں کسی سے جگہ مانگنے کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔
شام کو مہر آئی تو مشین کو دیکھ کر فوراً بولی، «خالہ ہر بار کہتی تھیں پہلے سیدھی لکیر پر سلائی کرو۔ میں جلدی میں کپڑا کھینچ لیتی تھی۔»
مریم ہنس پڑی۔ کئی دن بعد اس کی ہنسی میں جھجھک نہیں تھی۔ «وہ مجھے بھی یہی کہتی تھیں، حالانکہ میں کبھی سلائی کرتی ہی نہیں تھی۔»
مہر نے پیڈل دبایا۔ مشین اٹک گئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر مریم نے بھائی کو آواز دی۔ عادل تیل کی بوتل لینے نکلا تو پہلی بار فائل ساتھ نہیں لے گیا۔


