اردو نیوز اور مضامین 16 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب ۳: وہ بات جو عادل نے نہیں کہی

اکتوبر 15, 2026 · 5 ابواب
امی کی آخری رسید: سلائی مشین میں چھپی ایک امانت ←
باب 3 از 5
ابواب ☷

عادل شام کی بس سے آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں مکان کی فائل تھی اور چہرے پر سفر سے زیادہ ناگواری۔ مریم نے چائے رکھی تو اس نے پیالی اٹھانے کے بجائے پوچھا، «تمہیں لگتا ہے امی نے کوئی جائیداد چھپا رکھی تھی؟»

«مجھے لگتا ہے ہمیں پوری بات نہیں معلوم۔»

«پوری بات یہی ہے کہ ابو کے بعد بہت مشکل تھی۔ اب ہم مشکل سے نکل آئے ہیں۔»

مریم نے رجسٹر کی تصویریں سامنے رکھ دیں۔ عادل نے پہلی تصویر دیکھی، دوسری پر انگلی روکی، پھر فون میز پر الٹا رکھ دیا۔

باہر گلی میں بچوں کی گیند دروازے سے ٹکرائی۔ عادل پرانی عادت کے مطابق اٹھا، گیند اٹھا کر باہر دی اور لوٹتے ہوئے دروازے کی کنڈی چیک کی۔ مریم کو یاد آیا، بچپن میں یہی بھائی رات کو اس کے ڈرنے پر صحن کی بتی جلا دیتا تھا۔ آج وہ اس سے اس طرح سوال کر رہی تھی جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔

«تمہاری سکول کی فیس کے پیسے میں نے لیے تھے،» عادل نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

مریم کچھ نہ بولی۔

«ایک آدمی نے کہا تھا کہ کورس میں داخلہ کرا دے گا، پھر نوکری مل جائے گی۔ میں نے امی سے کہا فیس دینی ہے۔ وہ آدمی دفتر بند کر کے چلا گیا۔»

«پھر میری فیس کس نے دی؟»

«امی نے۔ اور مکان کی قسط بھی اسی مہینے دینی تھی۔ دونوں چیزیں اکٹھی ہو گئیں۔ انہوں نے بشیر صاحب سے قرض لیا۔ مشین پر کام بڑھا دیا۔ مجھے کہا، پہلے کوئی کام ڈھونڈو، نقصان بعد میں پورا کرنا۔»

عادل نے یہ قصہ بغیر اپنی صفائی دیے سنایا۔ مریم کو اس کے ہاتھ میں پیالی ہلتی ہوئی نظر آئی تو اس نے میز کے بیچ سے پانی کا گلاس اس کی طرف کر دیا۔

«آپ نے کبھی بتایا کیوں نہیں؟»

«پہلے شرم آتی تھی۔ پھر میں نے خود کو یقین دلا دیا کہ وہ بات ختم ہو گئی۔ ہر مہینے امی کو پیسے بھیجتا تھا تو لگتا تھا سب ٹھیک کر دیا۔»

مریم کا دل چاہا پوچھے کہ کیا پیسے بھیجنے سے وہ سرد راتیں بھی واپس آ گئی تھیں جن میں امی کی انگلیوں میں سوئی چبھتی تھی۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ سوال صرف چوٹ پہنچانے کے لیے ہوگا۔ وہ خود بھی تو کئی بار امی کی کال یہ کہہ کر ختم کرتی تھی کہ دفتر میں مصروف ہوں، بعد میں بات کروں گی۔

عادل نے فائل اس کی طرف کھسکائی۔ «ملکیت کے کاغذات اسی میں ہیں۔ رسید سے قانونی حصہ نہیں بدل جاتا۔ میں یہ بات چھپانا نہیں چاہتا۔ لیکن اگر تم ابھی فروخت نہیں کرنا چاہتیں تو میں خریدار کو منع کر دوں گا۔»

«ابھی نہیں،» مریم نے کہا۔ «اور مشین بھی نہیں جائے گی۔»

عادل نے سر ہلا دیا۔ مگر مریم کے سوال کا ایک حصہ باقی تھا۔ امی نے وہ رسید خاص طور پر اس کے لیے کیوں رکھی تھی؟

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp