کباڑی نے سلائی مشین کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا تو اس کے لکڑی والے تختے سے ایک زرد کاغذ پھسل کر مریم کے پاؤں کے پاس آ گرا۔
وہ اسے کسی پرانے کپڑے کی پرچی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی، اگر اوپر اپنے بچپن کا گھر نمبر نہ دیکھ لیتی۔ کاغذ پر لکھا تھا: «وصول ہوئے: اٹھائیس ہزار روپے۔ بابت امانتِ گھر نمبر سترہ۔» نیچے ایک انگوٹھے کا نشان تھا اور ساتھ کسی اور کی سیاہی سے ایک جملہ: «مریم کے لیے۔»
«باجی، گاڑی باہر کھڑی ہے۔ مشین رکھ لوں؟» کباڑی نے پوچھا۔
مریم نے پرچی پلٹ کر دیکھی۔ پیچھے امی کی لکھائی میں صرف دو الفاظ تھے: «بشیر صاحب۔» تاریخ تقریباً بیس برس پرانی تھی۔ تب مریم ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔
«یہ ابھی رہنے دیں۔ باقی سامان لے جائیں۔»
کباڑی نے مشین دوبارہ میز پر رکھ دی۔ لکڑی میں ایک طرف گہرا سا نشان پڑ گیا، جیسے کوئی پُرانا زخم اچانک دکھائی دینے لگا ہو۔ مریم نے اس پر انگلی پھیری۔ اسی کنارے پر بیٹھ کر وہ امی کی کترنوں سے گڑیا کے کپڑے بناتی تھی۔
امی کو گزرے چالیس دن ہو چکے تھے۔ بڑے بھائی عادل نے کہا تھا کہ اتنے چھوٹے گھر کو سنبھالنے کا فائدہ نہیں۔ وہ دوسرے شہر میں رہتا تھا، مریم کی نوکری بھی وہاں تھی۔ مکان بک جاتا تو دونوں کا بوجھ ہلکا ہوتا۔ مریم اسی حساب سے آئی تھی: الماری کے دو حصے، برتنوں کے تین ڈبے، مشین کباڑی کے لیے۔
لیکن حساب میں بشیر صاحب شامل نہیں تھے۔
سامنے والے صحن میں بارش کا پانی جمع ہونے لگا تھا۔ مریم نے دروازے کے پاس رکھی امی کی چپل اٹھا کر چھجے کے نیچے کی۔ پھر اسے اپنی حرکت پر حیرت ہوئی۔ چپل کو اب بارش سے کیا بچانا تھا؟
اس نے بھائی کو تصویر بھیجی۔ فون فوراً بج اٹھا۔
«یہ تمہیں کہاں سے ملی؟»
«مشین کے تختے کے نیچے تھی۔ بشیر صاحب کون ہیں؟»
دوسری طرف اتنی دیر خاموشی رہی کہ مریم نے فون کی سکرین دیکھی۔ کال چل رہی تھی۔
«امی محلے کے لوگوں کے کپڑے سیتی تھیں۔ کوئی گاہک ہوگا۔»
«گاہک رسید پر گھر کی امانت کیوں لکھتا؟»
«ہر پرانی بات کا مطلب نکالنا ضروری نہیں۔ کل پراپرٹی والے کو کاغذ دینے ہیں۔ بس اصل فائل سنبھال لینا۔»
کال ختم ہونے کے بعد مریم دیر تک مشین کے پیڈل کو دیکھتی رہی۔ وہ گھر جسے وہ خالی سمجھ کر آئی تھی، اچانک کسی رکی ہوئی بات سے بھر گیا تھا۔
