عادل نے یہ قصہ بغیر اپنی صفائی دیے سنایا۔ مریم کو اس کے ہاتھ میں پیالی ہلتی ہوئی نظر آئی تو اس نے میز کے بیچ سے پانی کا گلاس اس کی طرف کر دیا۔
«آپ نے کبھی بتایا کیوں نہیں؟»
«پہلے شرم آتی تھی۔ پھر میں نے خود کو یقین دلا دیا کہ وہ بات ختم ہو گئی۔ ہر مہینے امی کو پیسے بھیجتا تھا تو لگتا تھا سب ٹھیک کر دیا۔»
مریم کا دل چاہا پوچھے کہ کیا پیسے بھیجنے سے وہ سرد راتیں بھی واپس آ گئی تھیں جن میں امی کی انگلیوں میں سوئی چبھتی تھی۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ سوال صرف چوٹ پہنچانے کے لیے ہوگا۔ وہ خود بھی تو کئی بار امی کی کال یہ کہہ کر ختم کرتی تھی کہ دفتر میں مصروف ہوں، بعد میں بات کروں گی۔
عادل نے فائل اس کی طرف کھسکائی۔ «ملکیت کے کاغذات اسی میں ہیں۔ رسید سے قانونی حصہ نہیں بدل جاتا۔ میں یہ بات چھپانا نہیں چاہتا۔ لیکن اگر تم ابھی فروخت نہیں کرنا چاہتیں تو میں خریدار کو منع کر دوں گا۔»
«ابھی نہیں،» مریم نے کہا۔ «اور مشین بھی نہیں جائے گی۔»
عادل نے سر ہلا دیا۔ مگر مریم کے سوال کا ایک حصہ باقی تھا۔ امی نے وہ رسید خاص طور پر اس کے لیے کیوں رکھی تھی؟


