اردو نیوز اور مضامین 16 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب ۲: بند دکان کا نام

اکتوبر 15, 2026 · 5 ابواب
امی کی آخری رسید: سلائی مشین میں چھپی ایک امانت ←
باب 2 از 5
ابواب ☷

صبح مریم نے گلی کی نکڑ پر نسرین خالہ کو رسید دکھائی۔ خالہ نے عینک لگائی، کاغذ آنکھوں سے دور کیا، پھر اسے بیٹھنے کو کہا۔

«یہ بشیر درزی ہوں گے۔ پرانی منڈی میں ان کی دکان تھی۔ تمہاری امی ان سے کام لیتی تھیں، جب گھر میں مشین نہیں تھی۔»

مریم کو بشیر درزی یاد نہیں آئے۔ اسے وہ سردیاں یاد تھیں جب امی رات کو کپڑے سیتے سیتے ہاتھ سینکنے کے لیے چولہے کے پاس رکھ دیتی تھیں۔ وہ سمجھتی تھی، مشین ہمیشہ سے گھر میں تھی۔

منڈی میں دکان کا پرانا نام دھندلے بورڈ پر اب بھی موجود تھا، مگر اندر جوتوں کے ڈبے رکھے تھے۔ نئے دکاندار نے بتایا کہ بشیر صاحب کئی سال پہلے فوت ہو گئے۔ ان کی بیٹی حنا قریبی سکول میں پڑھاتی تھی۔ دوپہر کے وقفے میں وہ باہر آئی تو اس کے ہاتھ پر سرخ قلم کی لکیر لگی تھی۔

«آپ سکینہ خالہ کی بیٹی ہیں؟» حنا نے نام سنتے ہی پوچھا۔ «ابو ان کے کام کی بہت تعریف کرتے تھے۔»

مریم نے رسید بڑھائی۔ حنا نے اسے فوراً نہیں پہچانا۔ اس نے تصویر لے کر شام کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔

«ابو کے رجسٹر پڑے ہیں۔ اگر بات کاروبار کی ہے تو شاید ان میں ہو۔ مگر میں اندازہ لگا کر آپ کو کچھ غلط نہیں بتانا چاہتی۔»

گھر لوٹتے ہوئے عادل کا پیغام آیا: «تم منڈی گئی تھیں؟ نسرین خالہ نے بتایا۔ مکان کے خریدار کو انتظار نہ کراؤ۔»

مریم نے جواب لکھا، مٹا دیا۔ پھر صرف اتنا بھیجا: «شام تک رک جائیں۔»

حنا کے گھر میں رجسٹر لوہے کے ایک صندوق میں تھے۔ سرورقوں پر کپڑے کے نمونے چپکے ہوئے تھے: ایک گلابی پھول، نیلی دھاری، سنہری کنارے کا ٹکڑا۔ مریم نے بے اختیار ایک صفحہ چھوا۔ اس پر اسی رنگ کے کپڑے کا نمونہ تھا جو امی نے اس کے سکول کے آخری سال کی تقریب میں پہنا تھا۔ مریم نے اُس دن شکایت کی تھی کہ وہ ہر تقریب میں ایک ہی جوڑا کیوں پہن لیتی ہیں۔

حنا نے تیسرا رجسٹر کھولا۔ رسید کی تاریخ کے آگے ایک اندراج تھا: «سکینہ بہن۔ اٹھائیس ہزار۔ گھر کی بقیہ رقم ادا کرنے کے واسطے قرض۔» چند صفحوں بعد الگ الگ مہینوں میں چھوٹی ادائیگیاں تھیں۔ ایک ہزار، بارہ سو، سات سو۔ آخری سطر میں درج تھا: «حساب مکمل۔»

«تو یہ قرض واپس ہو گیا تھا؟» مریم نے پوچھا۔

«رجسٹر میں تو یہی ہے۔ یہ دیکھیں، آپ کی امی نے رقم نہیں لی تھی۔ یہ اس بات کی رسید ہے کہ ابو نے ان سے واپس وصول کر لی۔»

مریم نے کاغذ دوبارہ پڑھا۔ اسے رقم سے زیادہ وہ تین لفظ الجھا رہے تھے: «مریم کے لیے۔» گھر تو دونوں بہن بھائیوں کا تھا۔ پھر امی نے اس کے نام کو تختے کے نیچے کیوں چھپا دیا تھا؟

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp