اگلے دن مریم نے مشین کے سارے خانے کھولے۔ ایک میں زنگ آلود بٹن تھے، دوسرے میں ناپ والی پرچیاں۔ نیلے ٹین کے ڈبے میں دھاگے کی خالی ریلوں کے نیچے ایک چھوٹی کاپی ملی۔ اس کے پہلے صفحے پر امی نے بازار سے لانے والی چیزیں لکھی تھیں۔ آخری صفحات پر، جہاں عام طور پر حساب ہوتا تھا، مریم کے نام ایک ادھورا خط تھا۔
«مریم، تم کہتی ہو اس مشین نے تمہاری امی کو ہمیشہ مصروف رکھا۔ بات ٹھیک ہے۔ لیکن اسی نے مجھے تم دونوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بھی بچائے رکھا۔ اسے بیچنا چاہو تو بیچ دینا۔ بس وہ رسید پہلے پڑھ لینا۔»
مریم فرش پر بیٹھ گئی۔ خط میں نہ کوئی پوشیدہ وصیت تھی، نہ سونے کے زیور کا پتا۔ امی نے لکھا تھا کہ قرض کے آخری پیسے واپس کر کے وہ گھر آئیں تو انہیں پہلی بار لگا، یہ گھر اب قرض کی جگہ سکون کا نام ہو سکتا ہے۔ انہوں نے رسید پر مریم کا نام اس لیے لکھا تھا کہ مریم اس دن سکول سے انعام لے کر آئی تھی۔
«تم نے اپنا کاغذ میرے ہاتھ میں دیا، میں نے اپنا تمہارے لیے رکھ لیا۔ سوچا کسی دن دکھاؤں گی۔ پھر روز کے کاموں میں بات رہ گئی۔»
مریم کو اس انعام کا سرٹیفکیٹ یاد نہیں تھا۔ اسے امی کے ہاتھ یاد تھے: ناخنوں کے کنارے نیل، انگلی میں چھوٹی انگوٹھی، ہتھیلی پر کھردرا پن۔ وہ کاپی پر جھکی تو آنسو کا ایک قطرہ سیاہی کی لکیر کو پھیلا گیا۔ اس نے فوراً دوپٹے سے کاغذ کے کنارے کو تھاما، جیسے اب بھی امی کے کام کو خراب ہونے سے بچا سکتی ہو۔
خط کے نیچے بعد کی تاریخ میں ایک چھوٹا سا اضافہ تھا۔ «نسرین کی نواسی مہر کو مشین سکھانی ہے۔ لڑکی کے ہاتھ میں سلیقہ ہے۔»
نسرین خالہ نے بتایا کہ مہر نے دو بار آ کر امی سے سلائی سیکھی تھی۔ پھر امی بیمار ہو گئیں۔ مہر اب بچوں کے کپڑوں میں بٹن ٹانکنے کا کام کرتی تھی۔ اسے مشین چلانا پوری طرح نہیں آتا تھا اور بازار میں کسی سے جگہ مانگنے کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔
شام کو مہر آئی تو مشین کو دیکھ کر فوراً بولی، «خالہ ہر بار کہتی تھیں پہلے سیدھی لکیر پر سلائی کرو۔ میں جلدی میں کپڑا کھینچ لیتی تھی۔»
مریم ہنس پڑی۔ کئی دن بعد اس کی ہنسی میں جھجھک نہیں تھی۔ «وہ مجھے بھی یہی کہتی تھیں، حالانکہ میں کبھی سلائی کرتی ہی نہیں تھی۔»
مہر نے پیڈل دبایا۔ مشین اٹک گئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر مریم نے بھائی کو آواز دی۔ عادل تیل کی بوتل لینے نکلا تو پہلی بار فائل ساتھ نہیں لے گیا۔
