اردو نیوز اور مضامین 16 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب ۵: رسید کا دوسرا مطلب

اکتوبر 15, 2026 · 5 ابواب
امی کی آخری رسید: سلائی مشین میں چھپی ایک امانت ←
باب 5 از 5
ابواب ☷

گھر نہ بیچنے کا فیصلہ ایک دن میں آسان نہیں ہو گیا۔ چھت کی مرمت تھی، بجلی کا بل تھا اور دونوں بہن بھائیوں کی اپنی زندگی تھی۔ مریم نے اپنے شہر کی نوکری نہیں چھوڑی۔ عادل نے بھی کوئی بڑا وعدہ نہیں کیا۔ انہوں نے پہلے دو مہینے کا خرچ لکھا، پھر دیکھا کہ گھر کا سامنے والا کمرہ الگ سے استعمال ہو سکتا ہے۔

مہر نے کہا، «جگہ مل جائے تو میں شام کو کام کر سکتی ہوں۔ مگر ابھی باقاعدہ کرایہ نہیں دے سکوں گی۔»

«پہلے مشین چلانا سیکھ لو،» مریم نے جواب دیا۔ «باقی بات صاف لکھ کر طے کریں گے۔ صرف احسان کے حساب پر کام شروع نہیں کرنا۔»

نسرین خالہ نے محلے کی ایک تجربہ کار درزن سے بات کر دی۔ وہ ہفتے میں دو شام آ کر مہر کو کام سکھانے لگی۔ پہلے مہینے صرف دو جوڑے آئے۔ ایک کی آستین چھوٹی ہو گئی، دوسرے کی قمیص وقت پر تیار نہ ہو سکی۔ مہر رو دینے کو تھی۔ عادل نے جلدی سے کہا کہ یہ کام شاید اس سے نہیں ہوگا۔

مریم نے بھائی کی طرف دیکھا۔ پھر قمیص میز پر پھیلا دی۔ «غلطی ہوئی ہے۔ اسے ٹھیک کریں گے۔ کام بند کرنے کا فیصلہ اس کے بعد کر لینا۔»

عادل نے نظر جھکا لی۔ کچھ دیر بعد وہ باہر سے اسی رنگ کا اضافی کپڑا لے آیا۔ اس شام کسی نے مہر سے پچھلی غلطیوں کی فہرست نہیں مانگی۔

دو مہینے بعد سامنے والے کمرے میں ایک چھوٹی تختی لگ گئی: «سکینہ سلائی کمرہ۔» مریم نے پہلے تختی پر «سلائی مرکز» لکھوایا تھا، پھر مٹا دیا۔ ایک مشین اور تین کرسیوں کو مرکز کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کمرہ کہنا زیادہ سچا لگتا تھا۔

آخری اتوار کو حنا اپنے والد کے رجسٹر کی نقل لے کر آئی۔ مریم نے اسے چائے دی اور اصل رسید دکھائی، جو اب صاف لفافے میں تھی۔

«آپ اسے فریم کروا رہی ہیں؟» حنا نے پوچھا۔

«نہیں۔ دھوپ میں رنگ اڑ جائے گا۔ اسی مشین کے خانے میں رہے گی، لیکن اب چھپا کر نہیں۔»

مریم نے لفافے پر لکھا: «قرض ادا ہونے کی رسید۔ امی کی محنت کی یاد۔» نیچے تاریخ ڈالنے لگی تو رک گئی۔ پرانی تاریخ رسید پر پہلے ہی موجود تھی۔ اس نے نئی تاریخ صرف لفافے کی پشت پر لکھی۔ کچھ باتیں دوبارہ شروع ہوتی ہیں تو پہلی بات کو مٹانا نہیں پڑتا۔

روانگی سے پہلے عادل صحن میں کھڑا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا، «امی سے معافی مانگنے میں بہت دیر کر دی۔»

مریم نے دروازہ کھولا۔ اندر مہر مشین میں دھاگا ڈال رہی تھی، اور درزن خالہ عینک کے اوپر سے اس کے ہاتھ دیکھ رہی تھیں۔

«دیر ہوئی ہے،» مریم نے کہا۔ «آج اسے وقت پر گھر پہنچا دیں۔ باہر بارش ہونے والی ہے۔»

عادل نے گاڑی کی چابی نکال لی۔

مشین پھر چلنے لگی۔ اس بار مریم کو اس کی آواز میں مصروفیت کی شکایت سنائی نہیں دی۔ اس نے کنڈی کو ہاتھ لگایا، امی کی چپل چھجے کے نیچے سیدھی کی، اور دروازہ بند کرنے کے بجائے آدھا کھلا چھوڑ دیا۔

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp