ابو نے معافی کا لفظ فوراً نہیں کہا۔ کئی دن ناشتے پر کم بات ہوئی۔ پھر ایک صبح وہ اس کے کام کے نمونے دیکھنے بیٹھ گئے۔ مہر نے ایک خاکہ ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے عادتاً کہا، «یہ رنگ بدل دو۔»
مہر نے برش میز پر رکھ دیا۔ ابو رکے، پھر بولے، «میرا مطلب ہے، تم نے یہ رنگ کیوں رکھا؟»
وہ ان کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔ «یہ سوال اچھا ہے۔»
حارث سے ملاقات ایک ہفتے بعد ہوئی۔ اس بار دونوں کے گھر والے قریبی میزوں پر تھے، مگر گفتگو ان دونوں کی تھی۔ مہر نے اپنے کام، گھر کے خرچ اور مستقبل کے فیصلوں پر کھل کر بات کی۔ حارث نے بھی بتایا کہ اسے بعض باتوں کے لیے وقت چاہیے۔ اس نے ہر سوال پر فوراً ہاں نہیں کہی۔ مہر نے اسے انکار نہیں سمجھا؛ پہلی بار وہ دونوں اصل بات سن رہے تھے۔
منگنی کی نئی تاریخ اس ملاقات میں طے نہیں ہوئی۔ مہر نے انگوٹھی واپس بھی نہیں مانگی۔ پہلے اس نے اپنی نئی درخواست مکمل کی، اپنے نمونوں کی تصویریں لگائیں اور آخری صفحہ دوبارہ پڑھا۔
فارم میں ایک خانہ تھا: «کیا آپ یہ درخواست اپنی مرضی سے دے رہی ہیں؟»
مہر نے ہاں پر نشان لگایا۔ امی دروازے میں کھڑی تھیں۔ انہوں نے پوچھا، «بھیج دیا؟»
«ابھی نہیں۔ ایک بار اور دیکھ رہی ہوں۔»
امی نے سر ہلایا اور واپس چلی گئیں۔ انہوں نے نہ جلدی کروائی، نہ فون اپنے ہاتھ میں مانگا۔
مہر نے بھیجنے کا بٹن دبایا تو کمرے میں کوئی تالیاں نہیں بجیں۔ باہر گلی میں سبزی والے کی آواز آ رہی تھی۔ میز پر پڑا پرانا لفافہ پنکھے کی ہوا سے ہلکا سا سرکا۔ اس نے اسے اپنے خاکوں کے نیچے رکھ دیا۔
اگلے جواب کا انتظار اب بھی باقی تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار جواب آنے سے پہلے اس کی طرف سے کوئی اور فیصلہ نہیں کرے گا۔
مزید اصل اردو افسانے کہانیوں کے حصے میں پڑھیے۔


