اردو نیوز اور مضامین 15 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب ۲: وہ جواب جو مہر نے نہیں لکھا

اکتوبر 15, 2026 · 4 ابواب
منگنی کی رات واپس آنے والا لفافہ ←
باب 2 از 4
ابواب ☷

امی مہر کو ساتھ والے کمرے میں لے گئیں۔ باہر خالہ نے بلند آواز میں کہنا شروع کر دیا کہ ذرا تصویر والے کا انتظار ہے۔ فہد دروازہ بند کر کے اندر آیا تو مہر نے پہلا سوال نہیں دہرایا۔ اس نے خط اس کے سامنے کر دیا۔

«صرف یہ بتا دیں کہ یہ جواب کس نے بھیجا تھا۔»

«میں نے۔»

مہر کی انگلیوں کی گرفت کاغذ پر اور سخت ہو گئی۔

فہد تیزی سے بولنے لگا۔ «تمہاری امی بیمار تھیں۔ تم چھ ماہ کے لیے دوسرے شہر چلی جاتیں۔ ابو دکان پر اکیلے تھے۔ تم سے بات کرتا تو تم ضد کرتیں۔ میں نے سوچا، ایک کورس ہی تو ہے۔ بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔»

«تو آپ نے میرے نام سے جواب لکھ دیا؟»

«اب وہ وقت گزر چکا ہے، مہر۔»

«میرے لیے گزرا ہے۔ آپ کے لیے تو فیصلہ ہوتے ہی ختم ہو گیا ہوگا۔»

امی نے اس کا ہاتھ چھوا۔ «مجھے خط کا نہیں پتا تھا۔ مجھے تمہارے بھائی نے یہی بتایا کہ نام نہیں آیا۔»

مہر نے ان کی طرف دیکھا۔ امی کی الجھن بنائی ہوئی نہیں لگتی تھی۔ وہ آہستہ سے پلنگ پر بیٹھ گئیں۔ مہر نے پہلی بار محسوس کیا کہ دو سال پہلے کی ایک جھوٹی خبر کتنے لوگوں نے الگ الگ طرح سے سچ مان لی تھی۔

فہد نے آہستہ سے کہا، «میں نے ابو سے پوچھ لیا تھا۔»

کمرے میں ایک نئی خاموشی آ گئی۔ ابو اس وقت باہر حارث کے والد سے ہنس کر بات کر رہے تھے۔ مہر نے دروازے کے نیچے سے آتی روشنی کی لکیر دیکھی۔ اسے اپنا وہ خاکہ یاد آیا جس میں اس نے گھر کا دروازہ بنایا تھا، باہر سے بند اور اندر سے روشن۔ استاد نے پوچھا تھا، اندر والے کو باہر کا راستہ کیوں نہیں دیا؟ تب وہ جواب نہیں دے سکی تھی۔

حارث نے دستک دی۔ فہد فوراً اس کے پاس چلا گیا۔ دونوں نے باہر آہستہ آہستہ بات کی۔ مہر الفاظ نہ سن سکی، مگر فہد کی آخری بات صاف سنائی دی: «تم سمجھا دو، تمہاری بات مان لے گی۔»

حارث اندر آیا تو مہر نے اس کے بولنے سے پہلے کہا، «مجھے سمجھانے سے پہلے یہ بتاؤ، کیا تمہیں اس وظیفے کا پتا تھا؟»

حارث نے کرسی کھینچی مگر بیٹھا نہیں۔ «کورس کا بتایا تھا فہد نے۔ یہ نہیں بتایا کہ اس نے جواب بھیجا ہے۔»

«اور کیا بتایا تھا؟»

اس بار حارث نے جواب دینے میں دیر کی۔

«کہ تمہیں باہر پڑھنے کا شوق تھا، مگر اب تم نے خود گھر کے قریب رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔»

مہر کو ہنسی آئی، مگر وہ ہنسی اس کے چہرے تک نہیں پہنچی۔ اس کی زندگی کی ایک پوری کہانی لکھی جا چکی تھی۔ حیرت یہ تھی کہ اس کہانی میں اس کے بولنے کی کوئی جگہ نہیں رکھی گئی تھی۔

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp