اردو نیوز اور مضامین 16 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب ۳: انگوٹھی سے پہلے ایک سوال

اکتوبر 15, 2026 · 4 ابواب
منگنی کی رات واپس آنے والا لفافہ ←
باب 3 از 4
ابواب ☷

«چلو، باقی بات کل کر لیتے ہیں،» حارث نے کہا۔ «آج سب آئے ہوئے ہیں۔»

مہر نے لفافہ موڑ کر میز پر رکھا۔ «کل یہی بات میرے لیے اور مشکل ہو جائے گی۔ پھر تم کہو گے، اب تو منگنی ہو چکی ہے۔»

حارث نے کرسی پر بیٹھ کر اپنی پیشانی مل لی۔ باہر کسی نے قہقہہ لگایا۔ کمرے میں وہ آواز بے موقع لگی۔

«تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟»

«یہ نہیں کہ سب سے لڑو۔ یہ بتاؤ کہ اگر شادی کے بعد مجھے پڑھنے یا کام کرنے کا موقع ملا تو میرا جواب کون دے گا؟»

«ہم مشورے سے فیصلہ کریں گے۔»

«مشورے میں میرا انکار بھی شامل ہوگا، یا صرف وہ جواب جو تمہیں اچھا لگے؟»

حارث نے اس بار فوراً تسلی نہیں دی۔ مہر کو پہلی بار اس کی خاموشی، اس کی نرم باتوں سے زیادہ قابلِ بھروسا لگی۔

دروازہ کھلا اور ابو اندر آ گئے۔ فہد ان کے پیچھے تھا۔ ابو کی آواز دھیمی تھی مگر لہجہ وہی، جس کے بعد گھر میں عموماً گفتگو ختم ہو جاتی تھی۔

«ہم نے جو کیا، تمہاری بھلائی کے لیے کیا۔ گھر کے حالات تم جانتی تھیں۔»

«حالات بتا دیتے، ابو۔ میں خود فیصلہ کرتی۔»

«اور اگر تم نہ مانتیں؟»

یہ سوال سن کر مہر کے اندر کی الجھن یک دم صاف ہو گئی۔ مسئلہ حالات کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے ماننے سے مختلف جواب کا امکان ہی کسی کو منظور نہیں تھا۔

«تو آپ کو میرا نہ ماننا سننا پڑتا۔»

فہد نے غصے سے کہا، «تم ایک پرانے کاغذ کے لیے آج کا رشتہ خراب کر رہی ہو۔»

مہر نے میز سے انگوٹھی کا ڈبہ اٹھایا۔ حارث نے بے اختیار ہاتھ بڑھایا، پھر روک لیا۔

«رشتہ کاغذ سے خراب نہیں ہوتا،» مہر نے کہا۔ «مجھے اس بات سے ڈر لگ رہا ہے کہ یہاں سب کو میری خاموشی ہی مناسب لگ رہی ہے۔»

امی اٹھیں۔ انہوں نے بند ڈبہ مہر کے ہاتھ سے لیا اور اپنی الماری میں رکھ دیا۔ فہد نے انہیں حیرت سے دیکھا۔

«تمہاری ماں ہوں،» انہوں نے مہر سے کہا۔ «آج پہلی بار یہ بات صرف کہہ نہیں رہی۔ تمہیں وقت چاہیے تو وقت ملے گا۔»

ابو نے کچھ کہنا چاہا، مگر امی دروازے کی طرف بڑھ چکی تھیں۔ باہر جا کر انہوں نے مہمانوں سے کہا کہ آج رسم نہیں ہوگی، گھر میں ایک ضروری بات طے ہونا باقی ہے۔ کسی پر الزام نہیں رکھا، کسی کی طرف انگلی نہیں کی۔ بس بات کہہ دی۔

مہمان رخصت ہونے لگے تو حارث کی والدہ نے اپنا پرس اٹھاتے ہوئے مہر سے کہا، «ہمیں اس طرح بیٹھے بیٹھے واپس بھیجنا اچھا نہیں لگا۔»

مہر نے سر جھکا کر کہا، «مجھے بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ مگر غلط بات پر خوشی کی تصویر نہیں بن سکے گی۔»

حارث دروازے تک گیا، پھر واپس آ کر پوچھا، «کیا ہم دوبارہ بات کر سکتے ہیں؟ اس بار کسی کو سمجھانے کے لیے نہیں۔»

«کر سکتے ہیں،» مہر نے کہا۔ «مگر آج نہیں۔»

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp