«اسے اندر مت آنے دینا۔»
مہر نے یہ جملہ اپنے بھائی فہد کے منہ سے سنا تو اس کی بالی آدھی بند رہ گئی۔ سامنے صوفے پر انگوٹھی کا ڈبہ کھلا تھا۔ خالہ تصویروں کے لیے پھول سیدھے کر رہی تھیں، اور باورچی خانے سے الائچی والی چائے کی خوشبو آ رہی تھی۔ دروازے پر کھڑے بوڑھے آدمی میں ایسی کیا بات تھی کہ فہد کی آواز یک دم بدل گئی؟
«کون ہے؟» مہر نے پوچھا۔
«پرانا حساب لینے آیا ہے۔ میں دیکھ لیتا ہوں۔»
آدمی نے جواب سن لیا۔ اس نے دہلیز کے باہر کھڑے کھڑے کہا، «حساب نہیں، بیٹی کا کاغذ ہے۔ میرے پاس غلطی سے رہ گیا تھا۔»
مہر اٹھ کر دروازے تک آ گئی۔ فہد نے ہاتھ میں پکڑا لفافہ اپنی پشت کی طرف کر لیا۔ ایسا چھوٹا سا اشارہ، جو کسی اور دن اس کی نظر سے نکل جاتا۔ آج وہ رُک گئی۔
«اگر میرا ہے تو مجھے دے دیں۔»
«ابھی؟ مہمان بیٹھے ہیں۔»
«اسی لیے آہستہ مانگ رہی ہوں۔»
بوڑھے آدمی نے اپنا نام سلیم بتایا۔ وہ اس عمارت کی نچلی منزل پر کتابوں کی جلد بندی کرتا تھا جہاں کبھی مہر ایک تربیتی ادارے میں خاکہ سازی سیکھنے جاتی تھی۔ دکان منتقل کرتے ہوئے ایک الماری کے پیچھے ادارے کے خطوط کا بنڈل ملا تھا۔ لفافے پر مہر کا پرانا فون نمبر تھا، جو اب بند تھا۔ پتا وہی گھر والا تھا۔
«آج آنا مناسب نہیں تھا،» سلیم صاحب نے روشنیوں کی طرف دیکھ کر کہا۔ «مگر کل پھر دکان پر سامان اٹھنا ہے۔ سوچا امانت اور نہ روکے رکھوں۔»
مہر نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ فہد نے لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا تو اس کا کنارا پہلے سے کھلا ہوا تھا۔ اوپر نیلی مہر تھی، اندر اس کا نام اور دو سال پرانی تاریخ۔
یہ اسی وظیفے کا جواب تھا جس کے لیے مہر نے کئی راتیں جاگ کر کام کے نمونے بنائے تھے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ اس کا انتخاب نہیں ہوا۔ اس نے اس کے بعد درخواست کا ذکر بھی بند کر دیا تھا۔
کاغذ کی پہلی سطر میں لکھا تھا: «آپ کی جانب سے پیشکش واپس لینے کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔»
مہر نے دوبارہ پڑھا۔ پھر بھائی کی طرف دیکھا۔ فہد نے نگاہیں پھیر لیں۔
«میں نے پیشکش کب واپس لی تھی؟»
صوفے کے پاس اس کی امی نے چائے کی پیالی رکھ دی۔ پیالی کے نیچے طشتری کی آواز، کمرے کی باقی آوازوں سے الگ سنائی دی۔
اسی وقت حارث اپنی والدہ کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ سب کے چہرے مسکرا اٹھے، سوائے مہر کے۔ حارث نے اس کے ہاتھ میں کاغذ دیکھا اور دھیرے سے پوچھا، «کوئی مسئلہ ہے؟»
«ابھی معلوم کرتی ہوں،» مہر نے کہا۔ «انگوٹھی کا ڈبہ بند کر دیں۔»
