«چلو، باقی بات کل کر لیتے ہیں،» حارث نے کہا۔ «آج سب آئے ہوئے ہیں۔»
مہر نے لفافہ موڑ کر میز پر رکھا۔ «کل یہی بات میرے لیے اور مشکل ہو جائے گی۔ پھر تم کہو گے، اب تو منگنی ہو چکی ہے۔»
حارث نے کرسی پر بیٹھ کر اپنی پیشانی مل لی۔ باہر کسی نے قہقہہ لگایا۔ کمرے میں وہ آواز بے موقع لگی۔
«تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟»
«یہ نہیں کہ سب سے لڑو۔ یہ بتاؤ کہ اگر شادی کے بعد مجھے پڑھنے یا کام کرنے کا موقع ملا تو میرا جواب کون دے گا؟»
«ہم مشورے سے فیصلہ کریں گے۔»
«مشورے میں میرا انکار بھی شامل ہوگا، یا صرف وہ جواب جو تمہیں اچھا لگے؟»
حارث نے اس بار فوراً تسلی نہیں دی۔ مہر کو پہلی بار اس کی خاموشی، اس کی نرم باتوں سے زیادہ قابلِ بھروسا لگی۔
دروازہ کھلا اور ابو اندر آ گئے۔ فہد ان کے پیچھے تھا۔ ابو کی آواز دھیمی تھی مگر لہجہ وہی، جس کے بعد گھر میں عموماً گفتگو ختم ہو جاتی تھی۔
«ہم نے جو کیا، تمہاری بھلائی کے لیے کیا۔ گھر کے حالات تم جانتی تھیں۔»
«حالات بتا دیتے، ابو۔ میں خود فیصلہ کرتی۔»
«اور اگر تم نہ مانتیں؟»
یہ سوال سن کر مہر کے اندر کی الجھن یک دم صاف ہو گئی۔ مسئلہ حالات کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے ماننے سے مختلف جواب کا امکان ہی کسی کو منظور نہیں تھا۔
«تو آپ کو میرا نہ ماننا سننا پڑتا۔»
فہد نے غصے سے کہا، «تم ایک پرانے کاغذ کے لیے آج کا رشتہ خراب کر رہی ہو۔»
مہر نے میز سے انگوٹھی کا ڈبہ اٹھایا۔ حارث نے بے اختیار ہاتھ بڑھایا، پھر روک لیا۔


