اگلی صبح گھر میں مہمانوں کے بچے ہوئے پھول تھے اور چائے کی تین ادھ دھلی پیالیاں۔ مہر نے پھول کوڑے میں ڈالنے کے لیے اٹھائے، پھر صاف پانی والے جگ میں رکھ دیے۔ ہر چیز کو ایک ہی رات کی ناراضی کی سزا دینا ضروری نہیں تھا۔
اس نے ادارے کے دفتر کو فون کیا۔ پرانے ریکارڈ کی تصدیق میں دو دن لگے۔ جواب وہی نکلا جو خط میں تھا: انتخاب ہوا تھا، بعد میں انکار موصول ہوا، اور جگہ کسی دوسرے امیدوار کو دے دی گئی تھی۔ وہ موقع واپس نہیں آ سکتا تھا۔
دفتر کی خاتون نے نئی درخواستوں کی تاریخ بتائی اور واضح کیا کہ دوبارہ انتخاب کی کوئی ضمانت نہیں۔ مہر نے تاریخ لکھ لی۔ اسے اس وقت کسی ضمانت سے زیادہ ایک سچا جواب چاہیے تھا۔
فہد تیسرے دن اس کے کمرے میں آیا۔ اس کے ہاتھ میں نیا فون تھا۔
«تمہارا پرانا بہت سست ہو گیا ہے۔ نئے کام کے لیے رکھ لو۔»
مہر نے ڈبہ میز کی طرف سرکا دیا۔ «فون نہیں چاہیے۔ وہ ای میل دکھا دیں جو میرے نام سے بھیجی تھی۔ اور میرے اکاؤنٹ کی محفوظ معلومات اپنے فون سے ہٹا دیں۔»
فہد کا چہرہ اتر گیا۔ «اتنا بھی اعتبار نہیں رہا؟»
«جتنا باقی ہے، اسے سچ کے ساتھ رہنے دیں۔»
اس نے اپنی غلطی کی تفصیل بتائی۔ جواب اس کے اپنے پتے سے گیا تھا، مہر کے نام کے ساتھ۔ فہد نے اسے پرانی گفتگو دکھائی، پھر مہر نے ادارے کو اپنی طرف سے وضاحت بھیجی کہ آئندہ رابطہ براہِ راست اسی سے کیا جائے۔ اب ہر بات صاف لکھی ہوئی تھی۔


