دو ماہ بعد وہی چھت چھوٹے سے خاندانی اجتماع کے لیے سجائی گئی۔ مہر اور ارسلان کی منگنی تھی۔ اس دوران دونوں نے کام، رہائش، والدین کی ذمہ داریوں اور اپنی توقعات پر کھل کر بات کی تھی۔ ہر بات پر اتفاق نہیں ہوا۔ ارسلان دوسرے شہر میں کام کرتا تھا؛ مہر اپنی ملازمت چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ انہوں نے جلدی میں وعدے کرنے کے بجائے آنے جانے اور ممکنہ تبادلے کا قابل عمل راستہ طے کیا۔
مہمان نیچے کھانے کے لیے گئے تو ثنا دو کپ لے آئیں۔ ’’آج چینی گن کر ڈالی ہے۔ اس رشتے میں میری دوسری غلطی کی گنجائش نہیں۔‘‘ مہر نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ’’آپ کی دراز کا حساب بند ہو گیا، بھابھی۔‘‘ ثنا نے ہنس کر دونوں کو چائے دی اور سیڑھیاں اتر گئیں۔ ارسلان نے جیب سے وہی پرانا لفافہ نکالا۔ اس کے اندر اب ایک نیا کاغذ بھی تھا۔
مہر نے پڑھا: ’’ہاں، میں اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہتا تھا۔ مگر تمہیں یہ جواب چار سال پہلے ملنا چاہیے تھا۔ آئندہ ضروری بات صرف دل میں نہیں رکھوں گا۔‘‘ اس نے کاغذ تہہ کیا اور اپنی ہتھیلی میں دبا لیا۔ ’’تو میری بھی ایک شرط ہے۔‘‘ ارسلان فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ مہر نے کپ کی طرف اشارہ کیا۔ ’’چائے ٹھنڈی ہونے سے پہلے پیا کریں۔ ہر بات اتنی دیر سے اچھی نہیں لگتی۔‘‘ اس بار دونوں ایک ساتھ ہنسے۔ چھت پر روشنیوں کی لڑی پھر جل رہی تھی، مگر اب ان کے درمیان کوئی ادھورا جواب نہیں تھا۔


