مہر نے تیسری بار چائے میں چینی ڈالی تو ثنا بھابھی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’چائے بنا رہی ہو یا کسی سے بدلہ لے رہی ہو؟‘‘ ستائیس سالہ مہر نے چمچ رکھ دیا۔ ’’دھیان نہیں تھا۔‘‘ بھابھی کی نگاہ کھڑکی سے صحن میں گئی۔ ارسلان روشنیوں کی لڑی سلجھا رہا تھا۔ سفید کرتے کی آستینیں موڑے، وہ ہر تھوڑی دیر بعد کوئی بہانہ بنا کر باورچی خانے کے دروازے تک آ جاتا۔
’’ہاں، دھیان کہاں ہے، وہ نظر آ رہا ہے۔‘‘ مہر نے کپ اٹھا لیا۔ ’’اپنے مہمان کو خود دے دیجیے۔‘‘ ثنا ہنسیں۔ ’’صبح تک تو تمہارا کالج کا پرانا دوست تھا۔ اب میرا مہمان کیسے ہو گیا؟‘‘ مہر نے جواب نہیں دیا۔ ارسلان اس کے بھائی کا دوست بھی تھا۔ چار سال پہلے لاہور سے چلا گیا تھا اور اب بہن کی شادی میں مدد کرنے آیا تھا۔ تیس سال کی عمر میں اس کی آواز پہلے سے ٹھہری ہوئی تھی، لیکن مہر کو اس کا پرانا انداز زیادہ یاد آ رہا تھا۔
چھت پر ہوا تیز تھی۔ ارسلان نے کپ لے کر کہا، ’’تم اب بھی چائے میں الائچی کم ڈالتی ہو۔‘‘ ’’اور آپ اب بھی بات بدل لیتے ہیں۔‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔ مہر مڑنے لگی تو اس نے جیب سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔ ’’آج بات بدلنے نہیں آیا۔ یہ تمہارا ہے۔‘‘ کنارے گھس چکے تھے، مگر سامنے لکھی ہوئی مہر کی تحریر صاف پہچانی جا سکتی تھی۔


