ٹرین چلنے لگی تو حارث نے کہا، ’’انٹرویو کی خبر دینا، اگر دل چاہے۔‘‘ زویا نے کھڑکی سے سر ہلایا۔ نئے شہر میں انٹرویو اچھا ہوا۔ اسی شام اس نے اسے صرف اتنا لکھا کہ واپسی جمعے کو ہوگی۔ کوئی وعدہ، کوئی پرانا لقب نہیں۔ حارث نے جواب میں وقت پوچھا اور پھر کہا، ’’ملنا چاہو تو بتا دینا۔‘‘ زویا نے پہلی بار محسوس کیا کہ انتظار بھی دوسرے کی اجازت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
جمعے کو وہ پلیٹ فارم پر پھر ملا۔ اس بار زویا کے پاس ملازمت کی پیشکش تھی اور دکان کے لیے ایک منصوبہ: کاروبار آن لائن اور دکان کی روزانہ نگرانی بھائی کے ساتھ۔ حارث نے اس کی بات پوری سنی۔ دونوں نے اگلے ہفتے گھر والوں کے بغیر ایک پرسکون ملاقات طے کی، جہاں مستقبل پر نئے سرے سے بات ہوگی۔ اسٹیشن پر واپسی ماضی میں لوٹنا نہیں تھی۔ یہ وہیں سے آگے بڑھنے کا موقع تھا جہاں کبھی بات ادھوری رہ گئی تھی۔


