حارث نے بتایا کہ وہ اپنی ملازمت ختم کر کے واپس نہیں آیا۔ وہ چھٹی پر تھا، اور زویا کو رشتہ واپس مانگنے سے پہلے اپنی غلطی تسلیم کرنا چاہتا تھا۔ ’’میں نے تمہاری دکان کو صرف رکاوٹ سمجھا۔ تمہارے والد کی یاد اور تمہارا کام نہیں دیکھا۔‘‘ زویا نے جواب دیا، ’’میں نے بھی تمہارے ہر منصوبے کو اپنا انکار سمجھ لیا تھا۔ مگر یہ مان لینا دوبارہ ساتھ ہونے کی ضمانت نہیں۔‘‘
چائے والے نے دو کپ رکھے۔ زویا اپنی فائل کھول کر آخری صفحہ ڈھونڈنے لگی۔ اس کا تجربے کا خط فولڈر کے دوسرے حصے میں تھا۔ حارث نے کاغذ ترتیب دینے میں مدد کی، انٹرویو کے سوال نہیں سکھائے۔ اس چھوٹی سی بات میں زویا کو فرق محسوس ہوا: پہلے وہ ہر مشکل کا حل خود بننا چاہتا تھا؛ اب مدد کی جگہ پوچھ رہا تھا۔ اعلان ہوا تو وہ دونوں خاموشی سے ڈبے کی طرف چل پڑے۔


