زویا تیس برس کی تھی اور اپنے والد کی پرانی کتابوں کی دکان بند کر کے دوسرے شہر میں ملازمت تلاش کرنے جا رہی تھی۔ حارث اس کا منگیتر رہ چکا تھا۔ رشتہ اس وقت ٹوٹا جب حارث نے بیرون ملک کام کی پیشکش قبول کی اور دونوں نے اگلے برس کے بارے میں بات کرنے کے بجائے اپنی اپنی خاموشی چن لی۔ دو سال بعد وہ ایک ہی پلیٹ فارم پر تھے، مگر پرانی گفتگو کو نئے لفظ دینا آسان نہیں تھا۔
حارث نے کہا، ’’تمہارے بھائی نے بتایا تھا تم جا رہی ہو۔ اگر تمہیں ناگوار لگے تو میں چلا جاتا ہوں۔‘‘ زویا نے گھڑی دیکھی۔ ٹرین میں آدھا گھنٹہ تھا۔ ’’رک سکتے ہو۔ مگر میں تمہاری وجہ سے اپنا سفر نہیں بدلوں گی۔‘‘ حارث نے سر ہلا دیا۔ یہی جواب زویا سننا چاہتی تھی: نہ منت، نہ جذباتی شرط۔ دونوں چائے کے اسٹال کے پاس کھڑے ہو گئے۔


