اگلی صبح نائلہ نے اپنی مہندی دیکھی۔ ابتدائی حرف ادھورا رہ گیا تھا۔ عادل کی بہن نے چھیڑا، ’’دولہا اپنا نام کیسے ڈھونڈے گا؟‘‘ نائلہ ہنس پڑی۔ ’’پوچھ لے گا۔ اس گھر میں اندازے کم لگائیں گے۔‘‘ نکاح کے بعد عادل نے اسے مبارک باد دی تو وہ بڑی سی تختی ساتھ نہیں لایا تھا۔ اس نے صرف پوچھا، ’’پہلی کلاس کس دن ہے؟ میں سامان پہنچانے آ جاؤں؟‘‘
نائلہ نے کہا، ’’پیر کو۔ مگر تختی ہم دونوں مل کر لگائیں گے۔‘‘ چند روز بعد دیوار میں کیل لگاتے ہوئے عادل نے تختی ٹیڑھی کر دی۔ نائلہ نے اسے سیدھا کیا، پھر اپنے ہاتھ پر ادھورے حرف کی تصویر دکھائی۔ ’’یہ اسی لیے رہ گیا تھا کہ باقی بات ہم خود پوری کریں۔‘‘ ان کا نیا گھر کسی ایک بڑے سرپرائز سے نہیں بنا۔ وہ روزمرہ کے چھوٹے سوالوں، واضح جوابوں اور ایک دوسرے کے کام کے لیے جگہ چھوڑنے سے آباد ہونے لگا۔


