اٹھائیس سالہ نائلہ کو ہجوم پسند نہیں تھا۔ سہیلیاں گانے میں مصروف تھیں، مہندی لگانے والی خاتون بار بار ہاتھ سیدھا رکھنے کو کہہ رہی تھیں۔ کلائی کے پاس انہوں نے دولہا کا ابتدائی حرف بنانا چاہا تو نائلہ نے پوچھا، ’’پورا نام لکھ سکتی ہیں؟‘‘ خاتون نے مسکرا کر کہا، ’’پہلے جگہ تو چھوڑو۔ تم نے سارے نقش خود پسند کر لیے ہیں۔‘‘ نائلہ خاموش ہو گئی۔ یہی شکایت اسے اپنے رشتے سے بھی تھی: انتظام بہت، بات کم۔
عادل، بتیس سالہ انجینئر، ہر ضروری کام وقت پر کر دیتا تھا۔ شادی کی تاریخ، گھر کا سامان اور سفر کے کاغذ مکمل تھے۔ مگر نائلہ جب اپنی چھوٹی آرٹ کلاس جاری رکھنے کی بات کرتی، جواب ملتا، ’’بعد میں آرام سے دیکھیں گے۔‘‘ اسے ڈر تھا کہ بعد میں کی کوئی تاریخ نہیں ہوگی۔ شام کو عادل کی بہن ایک تحفہ لائی۔ اندر لکڑی کی تختی تھی جس پر نائلہ کے نام کے ساتھ ’’آرٹ اسٹوڈیو‘‘ لکھا تھا۔


