تختی دیکھ کر خوشی ہوئی، مگر نائلہ نے اسے وعدے کا ثبوت نہیں سمجھا۔ اس نے عادل کو فون کیا۔ ’’یہ بہت خوبصورت ہے۔ لیکن میں تحفے سے زیادہ صاف بات چاہتی ہوں۔‘‘ دوسری طرف خاموشی ہوئی۔ پھر عادل نے کہا، ’’مجھے لگا سرپرائز پسند آئے گا۔ میں نے کمرہ بھی خالی کروا دیا ہے۔‘‘ نائلہ نے نرم آواز میں پوچھا، ’’اور اگر میں اپنی موجودہ کلاس وہیں چلانا چاہوں جہاں پہلے سے بچے آتے ہیں؟‘‘
عادل نے پہلی بار اس منصوبے کو اپنے انتظام کے بجائے اس کے کام کی طرح سنا۔ نائلہ نے بتایا کہ کرایہ، آمدورفت اور ہفتے کے دن پہلے سے طے ہیں۔ عادل کو گھر کے اخراجات کے بارے میں خدشہ تھا۔ دونوں نے نمبروں کے ساتھ بات کی۔ حل ایک دوسرے کو متاثر کرنے سے نہیں، اپنے خدشے بتانے سے نکلا۔ کلاس اپنی جگہ رہی؛ گھر کا کمرہ نائلہ کی پینٹنگ کے لیے استعمال ہونا تھا۔


