دعوت کے دن ایک رشتہ دار نے فیصل سے کہا، ’’تم نے بڑا اچھا انتظام کیا۔‘‘ فیصل نے زینب کی طرف اشارہ کیا۔ ’’انتظام ان کا ہے۔ میں نے برتن گنے ہیں، وہ بھی دو بار غلط۔‘‘ سب ہنس پڑے۔ زینب نے اپنے کام کی تفصیل خود بتائی، اگلے ہفتے کے دو نئے آرڈر بھی لیے۔ گھر واپسی پر وہ تھکی ہوئی تھی، مگر اس کی خاموشی پہلے جیسی نہیں تھی۔
میز پر گجرا ابھی رکھا تھا۔ فیصل نے کہا، ’’سوکھ گیا ہوگا، نیا لے آؤں؟‘‘ زینب نے اسے ہاتھ میں لے کر مسکرایا۔ ’’یہ ٹھیک ہے۔ بس آئندہ تحفے کے ساتھ بات بھی کر لیا کرو۔‘‘ اس نے گجرا کھڑکی کے پاس رکھ دیا۔ ان کے درمیان کوئی فلمی مکالمہ نہیں ہوا۔ فیصل نے چائے بنائی، زینب نے اگلے آرڈر کا وقت لکھا۔ اس رات گجرے کی خوشبو کے ساتھ گھر میں ایک اور چیز لوٹ آئی تھی: اپنے نام سے پہچانے جانے کا اطمینان۔


