تیس سالہ زینب گھر میں کھانے کے چھوٹے آرڈر لیتی تھی۔ شادی کو چھ سال ہوئے تھے۔ اس نے اپنی محنت سے گاہک بنائے، مگر خاندان کی تقریبات میں لوگ اب بھی اسے صرف فیصل کی مددگار کہتے۔ فیصل کو لگتا تھا کہ وہ اس کی بہت حمایت کرتا ہے، کیونکہ ہر جگہ کھانے کی تعریف کر دیتا تھا۔ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک بڑے خاندانی کھانے کے کارڈ پر کاروبار کا نام غائب تھا اور لکھا تھا: ’’فیصل کی جانب سے ضیافت‘‘۔
زینب نے کارڈ میز پر رکھا۔ ’’تم نے خرچ نہیں دیا، میں نے آرڈر لیا ہے۔ پھر میرا کام تمہارے تحفے میں کیسے بدل گیا؟‘‘ فیصل نے پہلے کہا کہ عبارت چچا نے لکھی ہوگی۔ پھر اسے اپنی آواز میں صفائی سنائی دی۔ گجرا خریدتے وقت اسے لگا تھا کہ ناراضی نرم پڑ جائے گی۔ اب سمجھ آیا کہ خوشبو، نام کی جگہ نہیں لے سکتی۔


