زینب اپنی والدہ کی پرانی ترکیبوں کی کتاب لے آئی۔ کناروں پر نئی قیمتیں، وزن اور گاہکوں کے مشورے درج تھے۔ ’’یہ صرف کھانا پکانا نہیں، میرا کام ہے۔‘‘ فیصل نے صفحات پلٹے۔ اس نے پہلی بار دیکھا کہ آرڈر کے پیچھے کتنی ترتیب ہوتی ہے۔ وہ اپنی ملازمت کی بات تفصیل سے کرتا تھا، زینب کے کاروبار کے بارے میں اکثر صرف پوچھتا تھا، ’’آج کتنا کام ہے؟‘‘
اس شام دونوں نے خاندان کے گروپ میں تصحیح بھیجی۔ نئے کارڈ پر زینب کے کاروبار کا نام آیا اور آرڈر کی ادائیگی واضح ہوئی۔ فیصل نے اس سے پوچھا کہ دعوت میں مدد کہاں چاہیے۔ زینب نے کہا، ’’برتن گن دو، اور جب کوئی قیمت پوچھے تو مجھے جواب دینے دینا۔‘‘ فیصل نے یہ بات یاد رکھی۔ اسے پہلی بار مدد اور کسی کی جگہ لے لینے کا فرق سمجھ آیا۔


