ایک مہینے بعد دکان میں چھ افراد کی مختصر مطالعاتی نشست ہوئی۔ کرسیاں پڑوس سے آئیں، چائے تھرمس میں تھی اور اشتہار صرف دکان کی کھڑکی پر ایک کاغذ۔ عریبہ نے دو صفحات پڑھے تو اس کی آواز کانپی۔ دانیال سامنے بیٹھا تھا، کیمرہ اٹھائے بغیر سن رہا تھا۔ آخر میں ایک بزرگ خریدار نے اپنی پسند کی کتاب کا ذکر کیا اور سب کی گفتگو کھل گئی۔ محفل چھوٹی تھی، مگر عریبہ کے لیے اس میں جگہ بہت تھی۔
دکان بند کرتے وقت دانیال نے نیلی ڈائری آگے کی۔ نئے صفحے پر لکھا تھا: ’’اگلی جمعرات: سننا، حل بتانے میں جلدی نہیں کرنا۔‘‘ عریبہ نے نیچے اپنی تحریر شامل کی: ’’اور خاموشی کا مطلب خود سے طے نہیں کرنا۔‘‘ ڈائری پھر فہرستوں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اس میں ان کاموں کی جگہ بھی تھی جو بل ادا نہیں کرتے، مگر رشتے کو زندہ رکھتے ہیں۔


