ایک چھوٹا سا جواب
دو ہفتے بعد استاد کا کارڈ آیا۔ اس میں لکھا تھا، خط ملا۔ آدمی اپنے پرانے فیصلے نہیں بدل سکتا، اگلا فیصلہ ضرور بدل سکتا ہے۔ نیچے کوئی طویل نصیحت نہیں تھی۔ ثنا نے کارڈ کو اسی کتاب میں رکھا، مگر نیلا لفافہ اس بار خالی تھا۔
اگلی میٹنگ میں جب کسی کی غلطی سامنے آئی تو اس نے پہلے پوچھا، کیا ہم اصل فائل دیکھ سکتے ہیں؟ میز کے گرد بیٹھے لوگ شاید یہ معمولی سوال سمجھتے تھے۔ ثنا کے لیے یہ ایک نئے خط کی پہلی سطر تھی، جو کاغذ پر نہیں بلکہ اس کے روزمرہ رویے میں لکھی جارہی تھی۔ شام کو اس نے عائشہ کو چائے پر بلایا۔ ملاقات میں پرانی بات پھر آئی، مگر اس بار دونوں کے پاس اسے سننے کا وقت تھا۔
مزید مطالعہ
بند لائبریری کی چابی: محلے کی ایک نئی شروعات؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


