اردو نیوز اور مضامین 16 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب 1: کہانی کا آغاز

اکتوبر 16, 2026 · 2 ابواب
نیلا لفافہ: ایک معافی جو دیر سے پہنچی ←
باب 1 از 2
ابواب ☷

یہ اصل افسانوی اردو کہانی ہے۔ اس کے کردار اور واقعات حقیقی خبر نہیں ہیں۔

نیلا لفافہ ثنا کی کتاب میں دس سال سے رکھا تھا۔ اس پر استاد سلیم کا نام تھا، مگر پتہ ادھورا۔ جب بھی گھر بدلتا، لفافہ نئی الماری میں پہنچ جاتا۔ ثنا نے اسے کبھی پھینکا نہیں اور کبھی بھیجا بھی نہیں۔ اسے لگتا تھا کہ معافی مانگنے کا مناسب وقت گزر چکا ہے۔

پرانی جماعت کا ایک دن

اسکول کے آخری سال میں ثنا کی جماعت نے ایک مضمون جمع کرایا تھا۔ اس نے اپنی تحریر کے ساتھ ایک دوست کی نقل کی ہوئی عبارت بھی شامل کردی۔ استاد نے پوچھا تو اس نے سب کے سامنے کہا کہ انہوں نے اسے غلط سمجھا ہے۔ دوست خاموش رہی۔ بعد میں مقابلہ منسوخ ہوگیا اور استاد نے اس موضوع پر کوئی اور گفتگو نہیں کی۔

کئی برس بعد ایک دفتر میں کام کرتے ہوئے ثنا نے نئے ملازم کی رپورٹ میں غلطی دیکھی۔ وہ فوراً میٹنگ میں بتانا چاہتی تھی، پھر اسے اپنا وہ جملہ یاد آیا۔ اس نے ملازم کو الگ بلایا۔ معلوم ہوا کہ اسے پرانے اعداد کی فائل دے دی گئی تھی۔ ثنا کو پہلی بار احساس ہوا کہ سوال پوچھنے کے لیے بھی ایک مناسب جگہ ہوتی ہے۔

پتہ مل گیا

اسی شام اس نے پرانی ہم جماعت مریم کو فون کیا۔ باتوں باتوں میں استاد سلیم کا ذکر آیا تو مریم نے بتایا کہ وہ اب شہر کے دوسرے حصے میں رہتے ہیں۔ ثنا نے پتہ لکھ لیا۔ نیلا لفافہ کھولا تو اندر کا کاغذ زرد تھا۔ اس پر صرف تین سطریں تھیں، جن میں معافی سے زیادہ اپنی صفائی لکھی ہوئی تھی۔

اس نے نیا کاغذ نکالا۔ اس بار لکھا کہ مضمون میں نقل شامل کی تھی، سوال کے جواب میں جھوٹ بولا تھا اور دوست کو مشکل میں چھوڑا تھا۔ پھر قلم رک گیا۔ کیا معافی کے ساتھ جواب مانگنا بھی ایک مطالبہ ہوگا؟ اس نے آخری سطر میں صرف یہ لکھا کہ آپ کو جواب دینے کی کوئی مجبوری نہیں۔

خط بھیجنے سے پہلے

ثنا نے مریم سے پوچھا کہ کیا وہ خط پہنچا دے گی۔ مریم نے کہا، پہلے اس دوست کو بھی فون کرلو جس کا نام تم نے کبھی نہیں لیا۔ ثنا نے پرانا نمبر ڈھونڈا۔ دوسری طرف عائشہ تھی، جس نے بات پوری سننے کے بعد کہا، مجھے وہ دن یاد ہے۔ پھر دونوں کچھ دیر خاموش رہیں۔ ثنا نے اس خاموشی کو جلدی سے ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔

عائشہ نے آخر میں بتایا کہ اسے سب سے زیادہ دکھ یہ تھا کہ ثنا نے بعد میں بھی کچھ نہیں کہا۔ ثنا نے پہلی بار اپنی نیت سمجھانے کے بجائے اس بات کو سنا۔ فون بند ہوا تو خط کی زبان بدلنے کی ضرورت نہ رہی۔ جو کہنا تھا، اب اس میں واقعی موجود تھا۔

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp