انہوں نے جواب نہ دیا۔ مہر نے دوسری دکان سے ادھار روشنی لانے کی تجویز رکھی۔ کریم صاحب کو مقابلے والے دکاندار سے مدد مانگنا پسند نہیں تھا۔ پھر وہ خود گئے۔ دوسری دکان کے مالک نے کہا کہ ان کے پاس چھوٹا لیمپ ہے، بڑی روشنی آپ کے پاس ہے، دونوں کی جگہ بدل دیتے ہیں۔
روشنی کی جگہ
دونوں نے میلے کے منتظمین کے ساتھ محفوظ انتظام طے کیا۔ بڑا لیمپ کتابوں کے اسٹال کے قریب رکھا گیا اور چھوٹا لیمپ کریم صاحب کی میز پر آگیا۔ بچوں نے پہلی بار کتابوں کے سرورق صاف دیکھے۔ حارث نے ایک لڑکی کو تصویری کہانی دکھائی تو اس کی دادی بھی پاس بیٹھ گئیں۔
کریم صاحب اپنی دکان سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں اچانک محسوس ہوا کہ روشنی بانٹنے سے لیمپ کی ملکیت ختم نہیں ہوئی، اس کا کام بدل گیا ہے۔ کچھ لوگ کتابیں دیکھ کر ان کی دکان پر بھی آئے، مگر اس سے پہلے ہی ان کی بے چینی کم ہوچکی تھی۔ اب وہ ہر پرچی گننے کے بجائے مہر سے پوچھ رہے تھے کہ اسٹال کو اور کس چیز کی ضرورت ہے۔
انعام کا اعلان
رات کو نتائج آئے تو سب سے خوبصورت دکان کسی اور کی تھی۔ کریم صاحب نے تالیاں بجائیں۔ انہیں کوئی خاص انعام بھی نہیں ملا۔ واپسی پر حارث نے لیمپ صاف کرکے دیا اور کہا، اگلی بار ہم اپنے اسٹال کے انتظام میں روشنی بھی لکھیں گے۔ کریم صاحب نے کہا، اور میں اپنی فہرست میں فالتو کا لفظ دوبارہ سوچوں گا۔


