یہ اصل افسانوی کہانی ہے۔ کردار اور حالات تخیلاتی ہیں؛ چراغ کی مراد کہانی میں بیٹری والی روشنی ہے۔
آخری چراغ کریم صاحب کی دکان کے اوپر والے خانے میں رکھا تھا۔ محلے کے سالانہ میلے میں سب اپنی دکان سجاتے، اور بچے پسندیدہ دکان کے سامنے رنگین پرچی ڈالتے تھے۔ کریم صاحب کئی برس سے دوسرے نمبر پر آتے تھے۔ اس بار انہوں نے سب سے روشن سجاوٹ خریدنے کا ارادہ کرلیا۔
ایک اچانک بندش
میلے کی شام بجلی بند ہوئی تو بازار کے رنگ غائب ہوگئے۔ کچھ دکانوں میں متبادل روشنیاں جلیں، کچھ بند رہیں۔ کریم صاحب نے اپنا نیا بیٹری لیمپ نکالا۔ دکان روشن ہوئی تو انہوں نے اطمینان سے پرچیوں کا ڈبہ آگے رکھا۔ سامنے والی گلی اندھیرے میں تھی، جہاں بچوں کی کتابوں کا چھوٹا اسٹال لگا تھا۔
بارہ سالہ حارث کتابوں کو ہاتھ سے ٹٹول کر سیدھا کررہا تھا۔ اس نے آکر پوچھا کہ کیا ایک چھوٹی روشنی مل سکتی ہے۔ کریم صاحب نے دکان کے اندر دیکھا، سب سامان اپنی سجاوٹ کے لیے باندھ چکے تھے۔ انہوں نے کہا، ابھی تو کوئی فالتو نہیں۔ حارث واپس چلا گیا، مگر یہ لفظ دکان میں رہ گیا۔
فالتو کیا ہوتا ہے؟
کریم صاحب نے لیمپ کی روشنی میں اپنا حساب کھولا۔ میلے میں فروخت معمول سے کم تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر لیمپ گلی میں دے دیا تو دکان کی خوبصورتی ختم ہوجائے گی۔ اسی وقت ان کی بیٹی مہر نے پوچھا، یہ لیمپ لوگوں کو دکان دکھانے کے لیے ہے یا چیزیں پڑھنے کے لیے بھی؟
انہوں نے جواب نہ دیا۔ مہر نے دوسری دکان سے ادھار روشنی لانے کی تجویز رکھی۔ کریم صاحب کو مقابلے والے دکاندار سے مدد مانگنا پسند نہیں تھا۔ پھر وہ خود گئے۔ دوسری دکان کے مالک نے کہا کہ ان کے پاس چھوٹا لیمپ ہے، بڑی روشنی آپ کے پاس ہے، دونوں کی جگہ بدل دیتے ہیں۔
روشنی کی جگہ
دونوں نے میلے کے منتظمین کے ساتھ محفوظ انتظام طے کیا۔ بڑا لیمپ کتابوں کے اسٹال کے قریب رکھا گیا اور چھوٹا لیمپ کریم صاحب کی میز پر آگیا۔ بچوں نے پہلی بار کتابوں کے سرورق صاف دیکھے۔ حارث نے ایک لڑکی کو تصویری کہانی دکھائی تو اس کی دادی بھی پاس بیٹھ گئیں۔
کریم صاحب اپنی دکان سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں اچانک محسوس ہوا کہ روشنی بانٹنے سے لیمپ کی ملکیت ختم نہیں ہوئی، اس کا کام بدل گیا ہے۔ کچھ لوگ کتابیں دیکھ کر ان کی دکان پر بھی آئے، مگر اس سے پہلے ہی ان کی بے چینی کم ہوچکی تھی۔ اب وہ ہر پرچی گننے کے بجائے مہر سے پوچھ رہے تھے کہ اسٹال کو اور کس چیز کی ضرورت ہے۔
انعام کا اعلان
رات کو نتائج آئے تو سب سے خوبصورت دکان کسی اور کی تھی۔ کریم صاحب نے تالیاں بجائیں۔ انہیں کوئی خاص انعام بھی نہیں ملا۔ واپسی پر حارث نے لیمپ صاف کرکے دیا اور کہا، اگلی بار ہم اپنے اسٹال کے انتظام میں روشنی بھی لکھیں گے۔ کریم صاحب نے کہا، اور میں اپنی فہرست میں فالتو کا لفظ دوبارہ سوچوں گا۔
اگلے برس ان کی دکان پھر سادہ تھی۔ اوپر والے خانے میں لیمپ رکھا تھا، مگر اس کے ساتھ ایک کاغذ چپکا تھا: مشترکہ استعمال کا سامان۔ مہر نے پوچھا کہ کیا اس بار پہلا نمبر لیں گے؟ کریم صاحب نے مسکرا کر کتابوں والے اسٹال کی طرف دیکھا۔ بولے، پہلے یہ دیکھ لیں کہ کس جگہ اندھیرا رہ گیا ہے۔ اس شام بازار میں روشنی کم تھی، مگر کسی ایک دکان تک محدود نہیں تھی۔
مزید مطالعہ
آخری بینچ کا نقشہ: خاموش بچے کی اپنی جگہ؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


