اذلان ٹیم میں خاموش نہیں تھا۔ وہ چھوٹے جملوں میں بتاتا کہ یہ نشان واضح نہیں یا اس کمرے کا نمبر بدل گیا ہے۔ حرا نے بڑے حروف لکھے، فہد نے رنگوں کی الگ پہچان بنائی۔ جب کسی نے اس کے نقشے کی غلطی نکالی تو اذلان نے اسے کاپی پھاڑنے کی وجہ نہیں سمجھا؛ اس نے پنسل اٹھائی اور نشان درست کردیا۔
دو منٹ کی بات
تقریب سے ایک دن پہلے استاد نے پوچھا کہ ٹیم اپنے کام کا تعارف کیسے دے گی۔ اذلان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ استاد نے اسے مجبور نہیں کیا کہ سب سے لمبی تقریر وہی کرے۔ طے ہوا کہ ہر بچہ اپنے حصے کی دو باتیں بتائے گا اور سامنے نقشہ موجود ہوگا۔ اذلان نے اپنی بات پہلے دوست کے ساتھ دہرائی۔
اگلے دن وہ مائیک پر رکا، مگر نقشے کے ایک نشان پر انگلی رکھ کر دوبارہ بولا۔ اس نے بتایا کہ رنگ کس لیے الگ ہیں اور تازہ تبدیلی کہاں لکھی ہے۔ دو منٹ میں بات ختم ہوگئی۔ کوئی غیر معمولی تقریر نہیں ہوئی تھی، مگر اس کے لیے یہ پہلی بار تھا کہ پوری جماعت نے خاموشی سے اس کی بات سنی۔
بینچ بدلنے سے پہلے
واپسی پر ایک بچے نے کہا، اب تم آگے بیٹھا کرو، پچھلا بینچ اچھا نہیں۔ اذلان نے اپنی کاپی اٹھائی اور بولا، جگہ سے زیادہ یہ اچھا لگا کہ آج کام سب نے مل کر کیا۔ استاد نے یہ بات سن لی، مگر اسے نصیحت کا لمبا عنوان نہیں بنایا۔ انہوں نے اگلے منصوبے میں مختلف کاموں کی فہرست سب کے سامنے رکھی۔


