یہ اصل افسانوی اردو کہانی ہے۔ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔
آخری بینچ کا نقشہ کسی نے کام نہیں سمجھا تھا۔ اذلان ہر وقفے میں اپنی کاپی کے کنارے لکیریں کھینچتا۔ جماعت کے بچے تقریر کے مقابلے کی تیاری کررہے تھے اور وہ دروازے، کھڑکیاں اور راہداریاں بناتا رہتا۔ جب اس سے بلند آواز میں مضمون پڑھنے کو کہا جاتا تو وہ رک رک کر پڑھتا اور جلد بیٹھ جاتا۔
ایک نامکمل تعارف
نئے استاد نے پہلے دن سب سے اپنے بارے میں دو جملے کہنے کو کہا۔ اذلان نے کہا، میرا نام اذلان ہے، پھر خاموش ہوگیا۔ پیچھے سے کسی نے کہا، یہ صرف تصویریں بناتا ہے۔ استاد نے بات کو ہنسی میں نہیں بدلا۔ انہوں نے پوچھا، کیا کوئی تصویر دکھانا چاہو گے؟ اذلان نے کاپی بند ہی رکھی۔
کچھ دن بعد اسکول میں کتابوں کا دن منانے کا منصوبہ بنا۔ مختلف کمروں میں اسٹال لگنے تھے۔ بچے پوسٹر بنارہے تھے، مگر مہمان کس راستے سے آئیں گے اور کون سا اسٹال کہاں ہوگا، اس کا واضح خاکہ نہیں تھا۔ استاد نے تختے پر نام لکھے تو اذلان نے پہلی بار ہاتھ اٹھایا۔
کاپی کھل گئی
اس نے اپنا نقشہ سامنے رکھا۔ اس میں صرف خوبصورت لکیریں نہیں تھیں؛ اس نے کمرے کے نمبر، کھڑکیوں کی سمت اور راہداری کے موڑ بھی نشان زد کیے تھے۔ استاد نے اسے حتمی انتظام قرار نہیں دیا۔ پہلے متعلقہ ذمہ داروں کے ساتھ راستے اور حفاظت کی جانچ کروائی، پھر نقشے کو درست کرنے کے لیے بچوں کی ایک ٹیم بنائی۔
اذلان ٹیم میں خاموش نہیں تھا۔ وہ چھوٹے جملوں میں بتاتا کہ یہ نشان واضح نہیں یا اس کمرے کا نمبر بدل گیا ہے۔ حرا نے بڑے حروف لکھے، فہد نے رنگوں کی الگ پہچان بنائی۔ جب کسی نے اس کے نقشے کی غلطی نکالی تو اذلان نے اسے کاپی پھاڑنے کی وجہ نہیں سمجھا؛ اس نے پنسل اٹھائی اور نشان درست کردیا۔
دو منٹ کی بات
تقریب سے ایک دن پہلے استاد نے پوچھا کہ ٹیم اپنے کام کا تعارف کیسے دے گی۔ اذلان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ استاد نے اسے مجبور نہیں کیا کہ سب سے لمبی تقریر وہی کرے۔ طے ہوا کہ ہر بچہ اپنے حصے کی دو باتیں بتائے گا اور سامنے نقشہ موجود ہوگا۔ اذلان نے اپنی بات پہلے دوست کے ساتھ دہرائی۔
اگلے دن وہ مائیک پر رکا، مگر نقشے کے ایک نشان پر انگلی رکھ کر دوبارہ بولا۔ اس نے بتایا کہ رنگ کس لیے الگ ہیں اور تازہ تبدیلی کہاں لکھی ہے۔ دو منٹ میں بات ختم ہوگئی۔ کوئی غیر معمولی تقریر نہیں ہوئی تھی، مگر اس کے لیے یہ پہلی بار تھا کہ پوری جماعت نے خاموشی سے اس کی بات سنی۔
بینچ بدلنے سے پہلے
واپسی پر ایک بچے نے کہا، اب تم آگے بیٹھا کرو، پچھلا بینچ اچھا نہیں۔ اذلان نے اپنی کاپی اٹھائی اور بولا، جگہ سے زیادہ یہ اچھا لگا کہ آج کام سب نے مل کر کیا۔ استاد نے یہ بات سن لی، مگر اسے نصیحت کا لمبا عنوان نہیں بنایا۔ انہوں نے اگلے منصوبے میں مختلف کاموں کی فہرست سب کے سامنے رکھی۔
چند ہفتے بعد اذلان پھر آخری بینچ پر بیٹھا تھا۔ فرق یہ تھا کہ اس کی کاپی اب چھپی نہیں رہتی تھی۔ کبھی وہ کسی سے لفظ پوچھتا، کبھی کوئی اس سے نقشے کا نشان بنواتا۔ جماعت نے اسے اچانک ہر کام میں بہترین نہیں مان لیا تھا؛ اس نے بس ایک دروازہ کھول دیا تھا، جہاں مختلف ہنر رکھنے والے بچے ایک دوسرے کی طرف آسکتے تھے۔
مزید مطالعہ
رکی گھڑی کا وقت: ایک شاگرد کی اصل کامیابی؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


