اردو نیوز اور مضامین 16 اکتوبر 2026
بی ایس اردو

خبر، کھیل، تفریح اور زندگی — سب کچھ اردو میں

تازہ خبریں
کہانیوں کی دنیا · بی ایس اردو

باب 1: کہانی کا آغاز

اکتوبر 16, 2026 · 1 ابواب
رکی گھڑی کا وقت: ایک شاگرد کی اصل کامیابی ←
باب 1 از 1
ابواب ☷

یہ بی ایس اردو کے لیے لکھی گئی اصل افسانوی کہانی ہے۔ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔

رکی گھڑی کا وقت حمزہ کو اس دن سمجھ آیا جب اس نے دکان کے سب سے چھوٹے پرزے کو اپنی سب سے بڑی کامیابی بنا کر پیش کردیا۔ وہ تین ماہ سے نذیر صاحب کی گھڑیوں کی دکان پر کام سیکھ رہا تھا۔ ہر شام استاد اس سے کہتے، پہلے دیکھو، پھر ہاتھ لگاؤ۔ حمزہ کو دیکھنے میں وقت ضائع ہوتا محسوس ہوتا تھا۔

ایک آسان دکھائی دینے والا کام

جمعرات کی دوپہر ایک خاتون اپنے والد کی پرانی کلائی گھڑی لائیں۔ پٹی گھس چکی تھی، مگر شیشے کے نیچے سنہری سوئیاں صاف تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جمعے کو گھر کی تقریب میں پہننا ہے۔ نذیر صاحب سامان لینے بازار جانے لگے تو حمزہ سے بولے، اسے صرف صاف کرنا، اندر کا کام میرے آنے پر ہوگا۔

دکان خاموش ہوئی تو حمزہ نے گھڑی کان کے ساتھ لگائی۔ آواز نہیں آرہی تھی۔ اس نے سوچا، اگر خود چلا دی تو استاد حیران رہ جائیں گے۔ ڈھکن کھولتے ہی ایک باریک پیچ میز کے کنارے سے گرا۔ وہ جھکا، پھر کرسی ہٹائی، پھر دراز نکالی۔ پیچ نہ ملا، مگر شام تک اس نے گھڑی واپس بند کردی۔

تعریف کا مختصر راستہ

نذیر صاحب لوٹے تو حمزہ نے کہا کہ گھڑی پہلے ہی خراب تھی، شاید بہت پرانی ہونے کی وجہ سے ٹھیک نہ ہو۔ استاد نے اسے دیکھا، پھر گھڑی دیکھی۔ انہوں نے ڈانٹا نہیں۔ بس میز کے نیچے پڑی چٹائی اٹھائی اور ایک چھوٹی ٹارچ حمزہ کے ہاتھ میں دے دی۔ دونوں خاموشی سے ڈھونڈتے رہے۔ پیچ چٹائی کے دھاگے میں پھنسا تھا۔

حمزہ کے کان گرم ہوگئے۔ وہ چاہتا تھا کہ استاد کہہ دیں، کوئی بات نہیں۔ مگر نذیر صاحب نے سوال کیا، خاتون آئیں گی تو کون بتائے گا؟ حمزہ نے نظریں جھکا لیں۔ استاد نے پیچ سنبھالتے ہوئے کہا، مرمت میں میری مدد تمہیں مل جائے گی، بات تمہیں خود کرنی ہوگی۔

دروازے کی گھنٹی

اگلے دن خاتون وقت سے پہلے آگئیں۔ حمزہ کے ہاتھ میں کپڑا تھا، جسے وہ بار بار تہ کررہا تھا۔ اس نے رک رک کر ساری بات بتائی۔ یہ بھی کہا کہ اس نے گھڑی کو پرانی کہہ کر اپنی غلطی چھپائی تھی۔ خاتون کچھ دیر خاموش رہیں۔ پھر بولیں، مجھے اصل بات معلوم ہوگئی، اب بتاؤ کتنا وقت چاہیے؟

نذیر صاحب نے گھڑی کا معائنہ مکمل کرلیا تھا۔ شام تک کام ممکن تھا۔ حمزہ نے وعدہ استاد کی طرف دیکھ کر کیا، اپنے جوش پر نہیں۔ خاتون چلی گئیں تو اس نے پوچھا، آپ نے پہلے ہی مجھے کیوں نہیں روک دیا؟ استاد مسکرائے، میں تمہیں پیچ لگانا سکھا سکتا ہوں، سچ بولنے کی جگہ تمہیں خود کھڑا ہونا تھا۔

چلتی سوئیاں

شام کو گھڑی واپس کرتے ہوئے حمزہ نے خاتون کو وقت ملانے کا طریقہ دکھایا۔ انہوں نے رسید لی اور کہا، آج تم نے صرف گھڑی ٹھیک نہیں کی۔ حمزہ نے اس جملے کو تعریف سمجھ کر سینہ نہیں پھلایا۔ اس نے دکان کے رجسٹر میں پہلی بار اپنا نام پورا لکھا، پھر کام کے سامنے استاد کی نگرانی میں کے الفاظ درج کیے۔

اس رات گھر جاتے ہوئے اسے بازار کی گھڑیاں پہلے سے مختلف لگیں۔ ہر سوئی چل رہی تھی، مگر سب کا وقت ایک نہیں تھا۔ اسے لگا کہ سیکھنے کا اپنا وقت ہوتا ہے۔ اگلی صبح جب نذیر صاحب نے ایک نئی گھڑی میز پر رکھی تو حمزہ نے اوزار اٹھانے سے پہلے پوچھا، پہلے آپ مجھے دکھائیں گے؟ استاد نے کرسی اس کے قریب کھینچ لی۔

مزید مطالعہ

نیلا لفافہ: ایک معافی جو دیر سے پہنچی؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں

بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔

کہانی شیئر کریں
FacebookWhatsApp