یہ بی ایس اردو کے لیے لکھی گئی اصل افسانوی کہانی ہے۔ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔
ریڈیو کی خاموش آواز عادل کو شروع میں صرف خرخراہٹ لگتی تھی۔ نانا ہر شام پرانا ریڈیو کھڑکی کے پاس رکھتے، بٹن گھماتے اور چند لمحے انتظار کرتے۔ عادل موبائل پر کھیلتے ہوئے کہتا، اس میں کچھ آتا ہی نہیں، نیا لے لیتے ہیں۔ نانا جواب دینے کے بجائے آواز ذرا کم کردیتے۔
ایک شام بجلی چلی گئی
اس دن عادل کا کھیل درمیان میں بند ہوا اور گھر میں اندھیرا پھیل گیا۔ نانا نے بیٹری والا ریڈیو اٹھایا تو وہ بھی خاموش تھا۔ عادل کو پہلی بار ان کے چہرے پر بے بسی نظر آئی۔ اس نے کہا، کل اسے دکان پر لے چلیں گے۔ نانا نے ریڈیو لپیٹتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کے پہلے شہر کی یاد ہے۔
اگلے دن مرمت کرنے والے نے کہا کہ معمولی کام ہے، مگر شام کو ملے گا۔ گھر لوٹتے ہوئے عادل نے نانا سے پوچھا کہ پہلے شہر میں کون رہتا تھا۔ نانا نے ایک دوست کا نام لیا، پھر ایک تنگ گلی اور ایک کتب فروش کا ذکر کیا۔ عادل نے دیکھا کہ ریڈیو کے بغیر بھی ان کے پاس بہت سی آوازیں تھیں۔
ریکارڈ کرنے کا خیال
عادل نے موبائل نکالا اور فوراً ریکارڈ کرنے لگا۔ نانا رک گئے۔ بولے، پہلے پوچھ لیا کرو۔ عادل نے موبائل نیچے کیا۔ اس نے اجازت مانگی تو نانا نے کہا کہ کچھ باتیں صرف سننے کے لیے ہیں، کچھ محفوظ کرسکتے ہو۔ دونوں نے طے کیا کہ آج صرف پرانے محلے کی کہانی ریکارڈ ہوگی۔
عادل نے چھوٹے سوال لکھے۔ دوست کا نام کیسے پڑا، کتابوں کی دکان کہاں تھی، پہلی تنخواہ سے کیا خریدا؟ جواب کبھی سیدھا ملتا، کبھی نانا دوسری بات پر چلے جاتے۔ عادل پہلے انہیں واپس سوال پر لاتا، پھر اسے ان کے راستے میں دلچسپی ہونے لگی۔ ایک معمولی دکان کی کہانی میں پورا محلہ آباد ہوگیا۔
غلط نام کی اصلاح
رات کو ریکارڈنگ سن کر نانا نے کہا کہ گلی کا نام غلط یاد آیا تھا۔ عادل نے پوچھا، پھر یہ کہانی جھوٹی ہوگئی؟ نانا ہنسے، یادداشت کو بھی اپنا کاغذ درست کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے درست نام الگ ریکارڈ کرایا۔ عادل نے فائل کے ساتھ ایک نوٹ لکھا، تاکہ دونوں باتیں خلط ملط نہ ہوں۔
اسے اسکول میں یہ ریکارڈنگ سنانے کا خیال آیا۔ اس بار اس نے پہلے اجازت مانگی۔ نانا نے مختصر حصہ منتخب کیا اور اپنے دوستوں کی ذاتی باتیں نکالنے کو کہا۔ عادل نے پہلی بار سمجھا کہ کسی کی آواز محفوظ کرلینے سے اس کی ہر بات سب کو سنانے کا حق نہیں مل جاتا۔
مرمت کے بعد
ریڈیو واپس آیا تو صاف آواز میں پروگرام چل رہا تھا۔ نانا نے اسے کھڑکی کے پاس رکھا۔ عادل بھی کرسی لے آیا۔ کچھ دیر بعد اس نے آواز کم کرکے پوچھا، وہ کتب فروش آپ کو ادھار کتاب کیوں دیتا تھا؟ نانا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ آج ریڈیو چل رہا تھا، مگر دونوں اس کے درمیان اپنی گفتگو کے لیے جگہ نکال رہے تھے۔
ہفتے کے آخر میں عادل نے موبائل میں ایک فولڈر بنایا جس کا نام نانا کی اجازت سے رکھا۔ ہر فائل کے ساتھ تاریخ اور موضوع لکھا۔ پہلے خانے میں ایک خالی فائل رہ گئی۔ نانا نے پوچھا، یہ کیوں؟ عادل نے کہا، اگلی کہانی ابھی سننی ہے۔ نانا نے ریڈیو بند کردیا اور کرسی ذرا قریب کرلی۔ اس بار خاموشی میں خرخراہٹ نہیں، انتظار تھا۔
مزید مطالعہ
خالی جیب کا نام: ایک درزی کا مشکل فیصلہ؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


