یہ ایک اصل افسانہ ہے۔ نام، دکان اور بیان کردہ واقعات تخیلاتی ہیں۔
خالی جیب کا نام بابر نے اپنی دکان کے پہلے رجسٹر میں لکھا تھا۔ وہ ہر نئے کپڑے کے ساتھ جیبوں کی تعداد الگ نوٹ کرتا، کیونکہ اس کے استاد کہتے تھے کہ چھوٹی بات بھولنے سے بڑا جھگڑا بنتا ہے۔ بابر کو یہ احتیاط غیر ضروری لگتی، مگر اب اپنی دکان تھی تو وہ خود ہر پیمائش دو بار دیکھتا تھا۔
پرانی قمیص
ایک صبح اسکول کے چوکیدار اکرم صاحب پرانی قمیص لائے۔ آستین چھوٹی کرانی تھی۔ بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بیٹے کے انٹرویو کے لیے جوتے لینے جارہے ہیں۔ بابر نے قمیص میز پر رکھی اور اگلے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔ دوپہر کو کپڑا پلٹا تو اندر کی جیب سے تہ کیے ہوئے نوٹ نکلے۔
دکان کا کرایہ اسی دن دینا تھا۔ بابر نے نوٹ گنے، پھر اپنے خالی دراز کو دیکھا۔ اس کے ذہن میں صرف چند گھنٹوں کے لیے رکھنے کا خیال آیا۔ شام تک کوئی اور ادائیگی آجائے گی، وہ خود سے کہتا رہا۔ مگر اکرم صاحب کا نمبر رجسٹر میں نہیں تھا، صرف نام اور اسکول لکھا تھا۔
وہ راستہ جو چھوٹا نہیں تھا
بابر نے دکان ساتھ والے دکاندار کے حوالے کی اور اسکول گیا۔ چھٹی ہوچکی تھی۔ دوسرے چوکیدار نے کہا کہ اکرم صاحب جلدی چلے گئے، شاید گھر میں کام تھا۔ بابر واپس آیا تو مالک مکان کھڑا تھا۔ اس نے کرائے کے لیے اگلے دن تک وقت مانگا۔ جواب خوشگوار نہیں تھا، مگر بات صاف تھی۔
شام کو اکرم صاحب بدحواس آئے۔ انہوں نے جیب کا نام لیے بغیر پوچھا کہ قمیص تیار ہے؟ بابر نے کہا، پہلے یہ دیکھ لیجیے۔ اس نے لفافہ میز کے اندرونی حصے پر رکھا، تاکہ دوسرے گاہک نہ دیکھیں۔ اکرم صاحب نے رقم پہچانی اور کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کے ہاتھ ابھی تک کانپ رہے تھے۔
ایک غلط تجویز
ساتھ والے دکاندار نے مشورہ دیا کہ اس نیکی کی تصویر بنا لو، دکان مشہور ہوجائے گی۔ اکرم صاحب فوراً سیدھے بیٹھ گئے۔ بابر نے لفافہ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، تصویر کی ضرورت نہیں۔ اس نے محسوس کیا کہ رقم واپس کرنا ایک بات ہے، کسی کی پریشانی کو اپنے اشتہار میں بدلنا دوسری۔
اکرم صاحب شکریہ کہہ کر چلے گئے۔ بابر کو نہ بڑا انعام ملا نہ شام تک کرایہ پورا ہوا۔ اس نے ایک ادھوری قمیص مکمل کی، دیر تک دکان کھلی رکھی اور اگلے دن معمول کی آمدن میں سے رقم ادا کردی۔ اسے یہ بات کسی نے کہانی کی طرح آسان نہیں بتائی تھی کہ درست فیصلہ بھی کچھ دیر مشکل رہ سکتا ہے۔
رجسٹر کی نئی سطر
چند روز بعد اکرم صاحب اپنے بیٹے کے ساتھ آئے۔ بیٹے نے قمیص کی فٹنگ کرائی اور بتایا کہ انٹرویو ہوگیا ہے، نتیجہ ابھی باقی ہے۔ بابر نے دعا دی، مگر اسے کامیابی کی خبر بنا کر نہیں سنایا۔ اس نے بس نئے کام کی پیمائش لکھی اور اس بار رابطہ نمبر بھی لے لیا۔
رات کو رجسٹر بند کرنے سے پہلے اس نے خالی جیب کا نام والی پرانی سطر کے نیچے لکھا، ملنے والی چیز الگ لفافے میں، مالک سے رابطہ فوراً۔ پھر اس نے دراز میں صاف لفافے رکھ دیے۔ دکان اب بھی چھوٹی تھی، کرایہ اب بھی ہر مہینے آتا تھا، مگر اس کے کام میں ایک نئی جگہ بن گئی تھی جہاں کسی اور کی امانت اس کی ضرورت سے الگ رکھی جاسکتی تھی۔
مزید مطالعہ
بارش والی بس: منزل سے پہلے ایک موقع؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


