سارہ نے کاپی کے تین کالم بنائے: خیال، تجربہ اور نتیجہ۔ بلال نے مختلف تہوں کے چھوٹے نمونے بنائے۔ ریان نے پہلی بار ان کے سامنے سوال رکھا، اگر ہم یہ حصہ بدلیں تو؟ اس کے سوال کے بعد میز کی خاموشی بدل گئی۔ اب ہر کسی کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ کام تھا۔
ٹوٹے ماڈل کی اہمیت
ایک نمونہ پہلے سے بہتر ٹھہرا، مگر اگلے وزن پر ایک طرف سے پھٹ گیا۔ بلال اسے پھینکنے لگا تو سارہ نے روکا۔ اس نے پھٹنے کی جگہ کا نشان بنایا۔ ریان نے اس کے ساتھ لکھا کہ جوڑ کمزور تھا۔ دونوں کو پہلی بار ناکامی کی تصویر اچھی لگی، کیونکہ اس میں اگلے کام کی وجہ دکھائی دے رہی تھی۔
وقت کم رہ گیا تھا۔ وہ سب سے بڑا ماڈل بنانے کے بجائے اسی ڈیزائن کو صاف طریقے سے دہرانے لگے جسے آزمایا تھا۔ ریان نے استاد سے اضافی کاغذ مانگنے کے بجائے باقی کاغذ گنا۔ سارہ نے رنگ صرف وہاں کیا جہاں ضروری متن تھا۔ بلال نے نتائج والی کاپی ماڈل کے ساتھ رکھ دی۔
نتیجے کی تختی
مقابلے میں ان کا پل دوسرے نمبر پر آیا۔ ریان پہلے نمبر والے ماڈل کو دیکھ کر خاموش ہوا، پھر اس کے بنانے والوں سے پوچھنے چلا گیا کہ انہوں نے کون سا تجربہ پہلے کیا تھا۔ واپسی پر اس نے اپنے گروپ سے کہا، اگلی بار تقسیم ہم سب مل کر کریں گے۔ سارہ نے کہا، اور رنگ آخر میں ہی رکھیں گے، اگر ضرورت ہوئی۔


