یہ اصل افسانوی کہانی ہے۔ اسے حقیقی واقعے یا باغبانی کی تکنیکی ہدایت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
چھت پر ایک بیج رکھنے کی تجویز مینا نے دی تھی، مگر جھگڑا گملے کے نیچے رکھے برتن سے شروع ہوا۔ اوپر والی منزل کی نرگس خالہ کہتی تھیں کہ پانی ان کے راستے میں آتا ہے۔ مینا کی امی کہتیں کہ چھت سب کی ہے۔ دونوں درست بات کہہ کر بھی ایک دوسرے کی بات سن نہیں رہی تھیں۔
خالی ڈبہ اور پرانا گملا
مینا کو اسکول سے ایک چھوٹا بیج ملا تھا۔ وہ اسے ڈبے میں دبا کر روز دیکھتی، مگر کچھ نہ ہوتا۔ ایک شام نرگس خالہ نے اسے مٹی کریدتے دیکھا تو پوچھا، ہر روز کھود کر دیکھو گی تو انتظار کب کرو گی؟ مینا ناراض ہوئی، پھر اگلے دن خود ان کے دروازے پر پہنچ گئی۔ اس کے ہاتھ میں وہی ڈبہ تھا۔
خالہ نے نیا گملا خریدنے کے بجائے اپنا پرانا گملا دکھایا، جس کے نیچے مناسب برتن تھا۔ انہوں نے پہلے مینا کی امی سے جگہ طے کی۔ راستہ کھلا رکھا گیا اور پانی جمع ہونے کی بات بھی طے ہوگئی۔ مینا کو یہ سب بیج سے زیادہ مشکل لگ رہا تھا۔ اسے بس ایک ننھا پودا چاہیے تھا۔
روز کی ایک ذمہ داری
دونوں نے ایک کاغذ بنایا جس پر صرف تاریخیں تھیں۔ مینا دیکھ بھال کا اپنا کام لکھتی، خالہ کبھی ضرورت ہو تو اس کے ساتھ بیٹھ جاتیں۔ اس نے جلد سیکھ لیا کہ ہر روز کچھ کرنے کا مطلب ہر روز زیادہ پانی دینا نہیں۔ کبھی اس کا کام صرف دیکھنا اور مشورہ پوچھنا ہوتا تھا۔
ایک ہفتے بعد سبز سرا نظر آیا تو مینا نے پوری عمارت کو خبر دینا چاہی۔ خالہ نے منع نہیں کیا، مگر کہا، خوشی کے ساتھ یہ بھی بتانا کہ تم نے ہر روز مٹی کھودنا چھوڑ دیا تھا۔ مینا ہنس پڑی۔ اس نے اپنی کاپی میں کامیابی کے ساتھ وہ غلطی بھی لکھ دی۔
گملے سے بڑا منصوبہ
کچھ دن بعد دوسرے بچوں نے بھی گملے لانے کی بات کی۔ مینا فوراً راضی ہوگئی۔ اس شام چھت پر پانچ خالی ڈبے رکھے ملے تو امی نے پوچھا، کس نے اجازت دی؟ مینا نے کہا، چھت تو سب کی ہے۔ امی نے وہی جملہ دہرایا، اسی لیے سب سے پوچھنا ضروری ہے۔
اگلے اتوار عمارت کے لوگ جمع ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ جانچ اور باہمی اجازت کے بغیر بڑے یا بھاری سامان کا منصوبہ آگے نہ بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فی الحال صرف موجود چھوٹے گملوں کی محدود جگہ طے ہوئی۔ مینا کو منصوبہ چھوٹا لگ رہا تھا، مگر خالہ نے کہا، ایسا کام بڑا ہوتا ہے جو دوسروں کو تنگ کیے بغیر چل سکے۔
پہلی نئی پتی
گرمی کی ایک شام مینا کھیلنے چلی گئی اور اپنا وقت بھول گئی۔ واپس آئی تو خالہ گملے کے پاس بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اس کا کام خاموشی سے اپنے نام نہیں کیا۔ صرف پوچھا، آج کی تاریخ کے سامنے کیا لکھو گی؟ مینا نے لکھا کہ یاد نہیں رہا، پھر اگلے دن کے لیے گھر میں ایک چھوٹا یاد دہانی کارڈ رکھ دیا۔
مہینے کے آخر میں پودے پر نئی پتی آئی۔ مینا نے تصویر بنائی اور نیچے اپنا نام لکھنے لگی، پھر رک گئی۔ اس نے امی، نرگس خالہ اور عمارت کے سب رضامند لوگوں کے نام بھی شامل کیے۔ تصویر دیوار پر لگی تو خالہ نے کہا، بیج تو ایک تھا، جگہ بہت سوں نے دی۔ اس دن مینا کو لگا کہ کچھ چیزیں مٹی میں اور کچھ لوگوں کے درمیان اگتی ہیں۔
مزید مطالعہ
کاغذی پل: مقابلہ جیتنے سے پہلے ساتھ چلنا؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


