یہ اصل افسانوی کہانی ہے۔ اس کا ادارہ، کردار اور سفر تخیلاتی ہیں۔
بارش والی بس میں مائرہ نے فائل اپنے دوپٹے کے نیچے چھپا رکھی تھی۔ صبح اسے ایک چھوٹے ادارے میں حساب کتاب کے کام کا انٹرویو دینا تھا۔ گھر سے وقت پر نکلی تھی، مگر راستے میں گاڑی رک گئی۔ ڈرائیور نے محفوظ جگہ پر انتظار کا کہا تو مسافروں نے بیک وقت گھڑیاں دیکھیں۔
بھیگا ہوا کاغذ
مائرہ نے انٹرویو کی پرچی نکالی۔ کنارے پر پانی لگ گیا تھا اور نمبر کا آخری ہندسہ دھندلا تھا۔ وہ اندازے سے فون کرنے لگی، پھر رک گئی۔ فائل میں اصل ای میل کی چھپی ہوئی نقل بھی تھی۔ اس نے وہ دیکھی اور ادارے کو تاخیر کی اطلاع دی۔ دوسری طرف سے کہا گیا کہ پہنچ کر استقبالیہ پر بتادیں، فیصلہ وہاں ہوگا۔
اسے اس جواب میں ضمانت نہیں ملی، مگر راستہ ضرور مل گیا۔ وہ دوبارہ نشست پر بیٹھی تو ساتھ ایک خاتون کپڑوں کی فروخت کا حساب دیکھ رہی تھیں۔ ان کے کاغذ پر جمع غلط ہورہا تھا۔ مائرہ نے پہلے اجازت مانگی، پھر کہا کہ ایک رقم دو بار لکھی گئی ہے۔ خاتون نے کاپی اس کی طرف کردی۔
حساب سے آگے کا سوال
چند سطریں درست کرنے پر معلوم ہوا کہ ادھار اور نقد کی رقم ایک ہی خانے میں تھی۔ مائرہ نے الگ کالم تجویز کیے۔ خاتون نے پوچھا، تم یہ کام کرتی ہو؟ اس نے جواب دیا، گھر کا حساب رکھتی ہوں، ابھی نوکری ڈھونڈ رہی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اسے اپنی آواز معمول سے چھوٹی محسوس ہوئی۔
خاتون نے کہا، کام کی جگہ گھر ہو تو بھی حساب، حساب ہی ہوتا ہے، بس اسے واضح بتانا آنا چاہیے۔ مائرہ نے ان کے کاغذ پر پورا نظام بنانے کے بجائے ایک نمونہ بنایا اور باقی صفحہ واپس کردیا۔ بس چلنے لگی تو خاتون نے رابطہ مانگا۔ مائرہ نے صرف اپنا کاروباری رابطہ دیا، ان کی کاپی کی تصویر نہیں لی۔
دیر سے پہنچنے والی امیدوار
ادارے میں دو امیدوار جاچکے تھے۔ مائرہ نے انتظار کیا، پھر اسے اندر بلایا گیا۔ پہلا سوال تاخیر کا تھا۔ اس نے بارش کو لمبی شکایت بنانے کے بجائے بتایا کہ اطلاع دے دی تھی۔ پھر جب تجربے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے پہلی بار گھر کے کام کو صرف گھر کا کام نہیں کہا۔
اس نے ماہانہ اخراجات کی ترتیب، رسیدیں محفوظ کرنے اور مختلف خانوں میں رقم لکھنے کی مثال دی۔ بس کی خاتون کا نام یا ان کا ذاتی حساب نہیں بتایا۔ صرف یہ کہا کہ راستے میں ایک چھوٹا حساب واضح کرنے کا موقع ملا۔ انٹرویو ختم ہوا تو اسے جواب کے لیے تین دن انتظار کا کہا گیا۔
واپسی کا سفر
گھر لوٹ کر مائرہ نے فائل میز پر رکھی۔ امی نے پوچھا، نوکری مل گئی؟ اس نے کہا، ابھی نہیں معلوم، مگر آج میں نے اپنا کام صحیح طرح بتایا ہے۔ شام کو بس والی خاتون کا پیغام آیا۔ انہیں اپنے چھوٹے کاروبار کا ہفتہ وار حساب منظم کرانا تھا۔ مائرہ نے پہلے کام، وقت اور معاوضے کی بات واضح کرنے کے لیے ملاقات طے کی۔
تین دن بعد ادارے نے دوسرے امیدوار کے انتخاب کی اطلاع دی۔ مائرہ کو دکھ ہوا، لیکن اس کی میز پر اب ایک نیا صفحہ تھا جس پر اس نے اپنے ہنر کی فہرست لکھی تھی۔ بارش نے اسے منزل پر وقت سے نہیں پہنچایا تھا؛ اس تاخیر میں اس نے اپنی قدر کا ایک نام سیکھ لیا تھا۔ اگلی درخواست میں تجربے کا خانہ خالی نہیں رہا۔
مزید مطالعہ
آخری چراغ: روشنی بانٹنے کا ایک مختلف فیصلہ؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


