ثمرہ اٹھائیس سالہ مترجم تھی اور گھر سے کام کرتی تھی۔ سامنے والے فلیٹ میں اکتیس سالہ فہد رہتا تھا۔ دونوں کی پہلی گفتگو ایک گملے پر ہوئی جو اوپر سے پانی ٹپکنے کے باعث خراب ہو گیا تھا۔ ثمرہ نے شکایت لکھی، فہد نے معافی اور نیا گملا بھیجا۔ پھر کئی ہفتے لفٹ میں مختصر سلام، موسم پر ایک جملہ اور کبھی ہلکی نوک جھونک ہوتی رہی۔ اس معمول کو دونوں دوستی کہنے سے بھی ہچکچاتے تھے۔
ایک شام بجلی گئی تو عمارت کی راہداری میں سب اپنے فون کی روشنی لیے کھڑے تھے۔ فہد بزرگ پڑوسی کا سامان اٹھا رہا تھا۔ ثمرہ نے سیڑھیوں پر روشنی دکھائی۔ واپس آ کر فہد نے پوچھا، ’’کل چائے کی دکان پر بیٹھنا پسند کریں گی؟‘‘ اس نے فوراً یہ بھی کہا، ’’نہ چاہیں تو ہماری گملے والی صلح برقرار رہے گی۔‘‘ ثمرہ ہنس پڑی۔ ’’صلح تو پہلے ہی ہو گئی تھی۔ چائے کے لیے شام پانچ بجے ٹھیک ہے۔‘‘


