یہ بی ایس اردو کی اصل افسانوی کہانی ہے۔ تمام کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔
بند لائبریری کی چابی رحمت صاحب کی جیب میں تھی، مگر ہانیہ کو لگتا تھا کہ وہ پورے محلے کی کسی بھولی ہوئی بات میں کھو گئی ہے۔ ہر شام اسکول سے واپسی پر وہ لوہے کے دروازے سے اندر جھانکتی۔ میز پر دھول تھی اور دیوار کی گھڑی کئی برس سے ایک ہی وقت دکھا رہی تھی۔
صرف چابی کافی نہیں
ایک روز اس نے رحمت صاحب سے پوچھا کہ لائبریری کھول کیوں نہیں دیتے۔ انہوں نے پرانی چابی میز پر رکھ دی۔ بولے، دروازہ کھل جائے گا، صفائی، رجسٹر اور روز کی نگرانی کون کرے گا؟ ہانیہ کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ اس نے پہلی بار عمارت کے اندر کتابوں کے علاوہ کام بھی دیکھے۔
اگلے دن وہ اپنی دوست اریبہ کے ساتھ آئی۔ دونوں نے کہا کہ ہفتے کو صفائی کردیں گی۔ رحمت صاحب نے عمارت کی موجودہ حالت پہلے متعلقہ ذمہ دار سے دیکھوائی، پھر انہیں اجازت کے ساتھ صرف محفوظ کمروں میں کام کرنے دیا۔ پرانی الماری سے کتابیں نکالتے ہوئے ہانیہ کو معلوم ہوا کہ کچھ صفحات گیلا ہونے سے چپک چکے ہیں۔ ہر چیز صرف جھاڑنے سے نئی نہیں ہوجاتی۔
محلے کی میٹنگ
اتوار کو چھ لوگ جمع ہوئے۔ کسی نے کہا کہ چندہ فوراً شروع ہونا چاہیے، کسی نے نئی کرسیوں کی بات کی۔ درزی یوسف نے خاموشی سے پوچھا، پہلے اوقات طے کرلیں؟ بات رک گئی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ ہفتے میں دو شام دروازہ کھلے گا اور ہر شام دو بالغ رضاکار موجود ہوں گے۔ ہانیہ نے تختی پر وہ اوقات صاف لکھ دیے۔
کتابیں گننے میں تین دن لگے۔ اریبہ نے الگ رنگ کے کاغذ پر خراب نسخوں کی فہرست بنائی۔ ہانیہ ہر کتاب کو خوبصورت سرورق کے مطابق رکھنا چاہتی تھی، مگر ایک بزرگ خاتون نے کہا، پڑھنے والا موضوع سے ڈھونڈے گا۔ پھر تاریخ، ادب، بچوں اور دوسری کتابوں کے الگ خانے بنے۔
پہلا قاری
پہلی شام صرف ایک بچہ آیا۔ اس نے کتاب لینے کے بجائے پوچھا کہ یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ ہانیہ کو مایوسی ہوئی کہ کسی نے اس کی ترتیب کو سراہا ہی نہیں۔ رحمت صاحب نے اس کے لیے کرسی کھینچی۔ تھوڑی دیر بعد بچہ خود الماری تک گیا اور تصویروں والی کتاب اٹھا لایا۔
اگلی شام دو خواتین سلائی کے وقفے میں آئیں۔ انہیں بڑے حروف میں چھپی کتاب چاہیے تھی۔ وہ کتاب موجود نہیں تھی۔ ہانیہ نے پہلی بار کسی ضرورت کو اپنی پسند سے الگ لکھا۔ محلے سے آنے والی نئی کتابوں میں اس نے وہ فہرست سامنے رکھی، تاکہ صرف تعداد نہ بڑھے بلکہ پڑھنے والوں کا کام بھی بنے۔
چابی کی دوسری نقل
ایک ماہ بعد رحمت صاحب کو شہر سے باہر جانا پڑا۔ انہوں نے چابی کسی ایک بچے کو دینے کے بجائے رضاکاروں کے طے شدہ انتظام کے مطابق دوسری نقل رکھوائی۔ ہانیہ نے پوچھا، اب آپ کو فکر نہیں ہوتی؟ انہوں نے کہا، فکر ہوتی ہے، مگر اب اس کا جواب ایک آدمی نہیں، ایک طریقہ ہے۔
اس شام ہانیہ نے رجسٹر بند کیا تو دروازے پر وہی پہلا بچہ کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن تھی۔ اس نے کہا، میں نے اسے بتایا ہے یہاں بیٹھ بھی سکتے ہیں۔ ہانیہ مسکرائی۔ اسے لگا کہ لائبریری اس دن نہیں کھلی تھی جب تالہ اترا تھا؛ وہ اس دن کھلی جب کسی نے دوسرے کے لیے اندر جگہ دیکھ لی تھی۔
مزید مطالعہ
چھت پر ایک بیج: پڑوسیوں کے درمیان اگتی دوستی؛ اسی زمرے کی مزید تحریریں
بی ایس اردو کے لیے مصنوعی ذہانت کی معاونت سے مرتب کردہ اصل افسانہ؛ کردار اور واقعات تخیلاتی ہیں۔ مرکزی تصویر بھی اسی کہانی کے لیے تیار کردہ AI خاکہ ہے۔


